رسائی کے لنکس

کرغزستان: نسلی جھڑپوں میں دو افراد ہلاک, ہنگامی حالت نافذ


کرغزستان میں جھڑپیں

کرغزستان میں جھڑپیں

کرغزستان کی عبوری لیڈر روزا آتن بایافا نے تشدد کی مذمت کی ہے اور کہاہےکہ علاقے میں مزید بدامنی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہیں استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کے اختیارات تفویض کیے جائیں گے

کرغستان کی عبوری حکومت نے جنوبی شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے جہاں نسلی جھڑپوں میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے تھے۔

الگ واقعات میں بدھ کے روز حکومت نے اعلان کیا کہ عبوری لیڈر روزا آتن بایافا صدر کے فرائض سنبھالیں گی اور دسمبر 2011 تک اس عہدے پر فائز رہیں گی۔ اس تعیناتی کے لیے قومی سطح پر استصوابِ رائے درکار ہوگا جو اگلے ماہ منعقد کیا جائے گا۔

بدھ کے روز جاری ہونے والی سرکاری حکم نامے میں جلال آباد شہر میں کرفیو کا نفاذ بھی شامل تھا جہاں عینی شاہدوں کے مطابق نسلی گروپ گرغز نے ایک ازبک یونیورسٹی پر دھاوا بول دیا تھا۔

ہجوم کا مطالبہ تھا کہ ازبک کمیونٹی لیڈر، قادر جان باتی روف کو نسلی کشیدگی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا جائے ۔

مظاہروں کے دوران گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کس نے کی۔ ایک کرغز خبر رساں ادارے، آکی پریس نے عینی شاہدوں کے حوالے سے کہا ہے کہ 1500 ازبکوں کا لاٹھیوں سے مسلح گروپ بعد میں جلال آباد کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیا۔ سکیورٹی فورسزنے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

عبوری سربراہ روزا آتن بایافا نے تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ علاقے میں مزید تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جنوبی کرغزستان میں حریف نسلی گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے جب کہ ملک میں گذشتہ ماہ کی سیاسی شورش کے بعد امن عامہ کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG