رسائی کے لنکس

کرغزستان میں فسادات کے عوامل کا ایک جائزہ

  • گیری تھامس

کرغزستان میں اب بظاہر امن ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اگلے لمحے کیا ہو گا۔ جنوبی علاقے کے نسلی فسادات جن میں تقریباً دوسو افراد ہلاک ہوئے، ٹھنڈے پڑ گئے ہیں لیکن صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔ کرغزستان اوراس کے ہمسایہ ملکوں کے درمیان نسلی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن حالیہ تشدد کو سیاسی اور سماجی عوامل سے بھی ہوا ملی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی کرغزستان کے شہر اوش میں ازبک نسل کے بہت سے لوگوں نے خود کو گھروں میں بند کر لیا ہے کیوں کہ وہ اپنے کرغز ہمسایوں سے خوف زدہ ہیں۔ اوش وہ شہر ہے جہاں سب سے زیادہ تشدد ہوا ہے۔

لیکن ان نسلی جھڑپوں کی اصل وجہ کیا ہے؟ یو ں تو بہت سی باتیں سننے میں آرہی ہیں لیکن رپورٹوں کے مطابق کچھ کرغز اورازبک لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ فسادات بڑے منظم انداز سے ہوئے۔ یہ شبہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان فسادات میں سابق صدر کرمان باقیوف کا ہاتھ ہے جن کی حکومت کا تختہ اپریل میں الٹ دیا گیا تھا۔

وہ آج کل برسلز میں رہتے ہیں۔ اُنھوں نے فسادات میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ لیکن پرائیویٹ انٹیلی جینس فرم سارٹفار کی لارن گوڈرچ کہتی ہیں کہ موجودہ صورت حال کا اصل الزام سوویت ڈکٹیٹر جوزف اسٹالن کو دیا جانا چاہیئے ’’نسلی کشیدگی میں 1924 کے بعد بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا ۔ یہ وہ سال ہے جب اسٹالن نے پورے وسط ایشیا کو تین نسلی گروہوں میں تقسیم کردیا۔ اسٹالن کا مقصد یہ تھا کہ مختلف گروہوں کے درمیان ہمیشہ کشیدگی رہے تا کہ وسط ایشیا میں کوئی ایک گروپ ابھر کر طاقت حاصل نہ کر سکے‘‘۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے تھامس ووڈ کہتے ہیں کہ اگرچہ مختلف گروپوں کے درمیان نسلی کشیدگی موجود تھی لیکن یہ بڑی حد تک دبی ہوئی تھی۔ کرغز اورازبک لوگوں کے درمیان تعلقات پُرسکون تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ برسوں کے کرپشن، حکومت کی بد انتظامی اور نا اہلی کی وجہ سے نسلی تشدد پھوٹ پڑا’’ میری فہرست میں حکومت کی کمزوری کو پہلا نمبر دیا جائے گا۔ وہاں آج کل ایک کمزور عبوری حکومت قائم ہے۔ سرکاری ادارے کئی عشروں کی نا اہلی کی وجہ سے کھوکھلے ہو چکے ہیں اور برسرِ اقدار طبقے نے ملک کی تمام دولت کو لوٹ لیا ہے۔ اوران سب چیزوں کا نتیجہ فسادات کی شکل میں نکلا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں فسادات کے لیے نسلی منافرت کو الزام دینے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے کیوں کہ پچھلے 20 برسوں سے وہاں حالات کافی حد تک مستحکم تھے‘‘۔

لیکن تازہ ترین فسادات میں کرغزستان میں رہنے والے ازبک نسل کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لارن گوڈویچ کہتی ہیں کہ یہ نسلی جھڑپیں علاقائی بحران کی شکل اختیار کر گئیں کیوں کہ ہمسایہ ملک ازبکستان نے اپنی فوجیں سرحد پر پہنچا دیں ’’جب ازبکستان نے اپنی فوجوں کی نقل وحرکت شروع کی، تو کرغزستان کی عبوری حکومت کو تشویش ہوئی کہ ازبکستان کی طرف سے حملہ شروع ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ دیکھیں گے کہ کئی ہزار تربیت یافتہ فوجی جنوبی علاقے کی سرحد کی طرف بھیجے جا رہے ہیں، جہاں کرغز ستان کی فوج کی تعداد برائے نام ہے، تو آپ کو پریشانی تو ہو گی۔ اس مرحلے پر کرغزستان کی حکومت نے روس سے مدد مانگی۔ اب ازبکستان نے سوچا، کہ یہ سارا ڈرامہ تو روس نے رچایا تھا تا کہ ازبکستان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ غرض یہ کہ یہ بڑی حد تک کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان بد گمانیوں اور وسوسوں کی جنگ ہے‘‘۔

سوویت یونین نے آخری بار 1990 میں نسلی فسادات کو کچلنے کے لیے فوجیں بھیجی تھیں۔ لیکن موجودہ صورت حال میں روس کو یک طرفہ طور پر یا سابق سوویت ریاستوں کی تنظیم، کولیکٹیو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن کے تحت فوجیں بھیجنے میں تامل رہا ہے اور اس نے اب تک اپنی فوجیں نہیں بھیجی ہیں۔

بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کرغزستان کی عبوری حکومت کمزور ہے۔ توقع ہے کہ یہ حکومت27 جون کو ایک آئینی ریفرینڈم منعقد کرے گی اوراس کے بعد ملک میں پارلیمانی انتخابات ہوں گے ۔ حکومت کا اصرار ہے کہ اس مہینے کا ریفرینڈم پروگرام کے مطابق ضرور ہو گا۔ لیکن بہت سے تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ ایک کمزور عبوری حکومت موجودہ حالات میں ایسے ریفرنڈم کے انتظامات کر سکے گی جس کے نتائج قابلِ اعتبار ہوں۔

XS
SM
MD
LG