رسائی کے لنکس

کرغیزستان: صدارتی انتخاب میں اتم بایوف کی فتح


اتم بایوف

اتم بایوف

حالانکہ، تشی ییف اور مدوماروف نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئےعوامی احتجاج کی دھمکی دی ہے، لیکن پبلک کی طرف سے ہنگامہ آرائی کے کوئی آثار نہیں

کرغیزستان کےانتخابی عہدے داروں نے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم المازبیک اتمبایوف نے گذشتہ ماہ کے صدارتی انتخاب میں فتح حاصل کر لی ہے۔

تقریباً 63 فی صد ووٹ حاصل کرکے، مسٹر اتم بایوف نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، جو کہ اُن کے دو قوم پرست مخالفین ، پارلیمان کے سابق اسپیکر اداخان مدوماروف اور سابق باکسر کمچی بیک تشی ییف کے خلاف واضح سبقت ہے، جنھیں 15 فی صد سے بھی کم ووٹ پڑے۔

حالانکہ، تشی ییف اور مدوماروف نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے اور عوامی احتجاج کی دھمکی دی ہے، پبلک کی طرف سے ہنگامہ آرائی کےکوئی آثار نہیں ہیں اور بشکک سے ملنے والی رپورٹوں سےسوویت دور کے بعد سے اب تک ، صدارتی اقتدار کی پہلی پُرامن تبدیلی کا عندیہ ملتا ہے۔

ایک سال قبل، بدعنوانی اور غربت کے خلاف قومی احتجاجی مظاہروں کے باعث کرغیز صدر قرمان بیک بکاییف برطرف ہوئے۔ تب سے اب تک ملک کی قیادت روزا اُتن بایوف نے کی ہے جو کہ وسطی ایشیا کی پہلی خاتون صدرہیں۔ وہ 31دسمبر کو عہدے سے سبک دوش ہوں گی، اور اِس طرح، 20سال قبل آزاد ہونے والی پانچ سابق سوویت ری پبلک ریاستوں میں سے وہ وسط ایشیا کی پہلی راہنما ہیں جو رضاکارانہ طور پر اقتدار چھوڑیں گی۔

مسٹر اتم بایوف نے کہا ہے کہ وہ اتفاق رائے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوں گے۔ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے وہ ستمبر میں وزیر اعظم کے عہدے سے دستبردار ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG