رسائی کے لنکس

کرغزستان کی صورت حال میں بیرونی قوتوں کی دلچسپی


امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک اور قرغزستان کی عبوری حکومت کی راہنما اوتن بایفا (14 اپریل 2010)

امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک اور قرغزستان کی عبوری حکومت کی راہنما اوتن بایفا (14 اپریل 2010)

کرغزستان میں ہونےو الی حالیہ عوامی بغاوت اور صدر کرمان بیگ باقیوف کی معزولی کے بعد کی صورتحال نے وسطی ایشیا کے اس چھوٹے سے ملک کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جو اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے امریکہ ، روس اور چین کے مفادات کے لئے انتہائی اہم ہے کرغزستان کے ماہرین اس بیرونی دلچسپی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور روس دونوں کا کرغزستان میں ایک ایک فوجی اڈہ ہے۔ برطرف کرغیز صدر کرمان بیگ باقیوف نے گزشتہ سال روس سے اس وعدے پر دو ارب ڈالر کی امدادحاصل کی تھی کہ کرغزستان کا امریکی فوجی اڈہ بند کر دیا جائے گا۔ اس اڈے سے افغانستان میں نیٹو فوجیوں کو رسد فراہم کی جاتی ہے اور ماسکوکو سابق سوویت ریپبلک میں امریکی فوجی موجودگی پر تحفظات ہیں۔ مگر کرغزستان کے صدر باقیوف نے امریکی فوجی اڈہ قائم رکھنے کا سالانہ کرایہ 17 اعشاریہ چارملین سے بڑھا کر 60 ملین ڈالر طے کر کے واشنگٹن سے نیا معاہدہ کر لیا اور روس کو ناراض کر دیا۔

کرغزستان کے کئی حلقے الزام عائد کرتے ہیں کہ امریکہ نے کرغزستان میں فوجی اڈے کے بدلے صدر باقیوف کی مبینہ زیادتیوں سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ کرغزستان کی عبوری حکومت کے نائب سربراہ الماس بیگ اتم بایوف کہتے ہیں کہ امریکہ کے برعکس روس نے کرغزستان میں جمہوریت کی تبلیغ نہیں کی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر وقت جمہوریت کی بات کرتے تھے ، مگر کرغزستان میں امریکی سفیر نے صدر باقیوف کی زیادتیوں سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ ہم حزب مخالف والے امریکی اڈے کے بدلےزیادتیاں برداشت کر رہے تھے۔ ایک عظیم قوم کو ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہئے۔ میرے خیال میں امریکی راہنما یہ سمجھ جائیں گے۔

اتم باقیوف نے جو کرغزستان کی عبوری حکومت میں شامل ہونے والے پہلے راہنما ہیں، یہ بات ماسکو سے واپسی پر کہی ،اوریہ کہا کہ روس نے کرغزستان کو ڈیڑھ سو ملین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ایک غیر جانبدار سیاسی تجزیہ کار Tamerlan Ibragimovکا کہنا ہے کہ کرغزستان کی انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکی جمہوریت کے وعدوں کو روس کے آمریت پر مبنی سیاسی نظام سے بہتر سمجھتی ہیں، لیکن Ibragimov کہتے ہیں کہ کرغزستان کے عوام کی معاشی بہتری کا انحصار بہت حد تک روس ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کرغزستان کے بہت سے باشندے روس میں ملازمتیں کرتے ہیں ،اور ان کی بھیجی ہوئی رقوم ان کے ملک کے زر مبادلہ کا بڑا ذریعہ ہیں۔ گویا وہ روس میں بیٹھ کر اپنے خاندان کرغزستان میں پال رہے ہیں۔ شہروں کے شہر روسی إٓمدنی پر زندہ ہیں۔

یہی نہیں کرغزستان کے بازار چینی مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں ، جس کی کرغزستان کے ساتھ 858 کلومیٹر لمبی سرحد مشترک ہے۔ کرغزستان میں بغاوت کے دوران ، چین نے اپنے شہریوں کو کرغزستان کے سفر کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت اور بحران کے پر امن حل کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن کرغیز سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر مورت سوئم بایوف کہتے ہیں کہ چین کو اصل تشویش اپنے زن جیانگ صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کی ہے ، جہاں مسلمان اقلیتی یغوراپنی آزادی کے لئے سرگرم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کرغزستان میں عدم استحکام بالواستہ یا براہ راست زن جیانگ میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ کیونکہ کرغزستان میں عدم استحکام ہوگا تو یغور علیحدگی پسندوں کے لئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا آسان ہوگا۔

کرغزستان کے غیر جانبدار سیاسی تجزیہ کار Temerlan Ibragimovملکی سرحد کے دونوں طرف عدم استحکام کی جڑیں وسطی ایشیا سے باہر تلاش کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ سارا خطہ ہی عدم استحکام کا شکار ہے ،افغانستان بھی یہاں ہے ، ایران بھی یہاں ہے ، اور تو اور ازبکستان کی صورتحال بھی کافی غیر مستحکم ہے ، اور اگر پ یہ سوچیں کہ خود مختار زن جیانگ کا مطالبہ ہمیشہ سے چین کے لئے درد سر بنا رہا ہے، اس لئے چین کرغزستان کو اسی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

کرغزستان کی حالیہ عوامی بغاوت کی وجہ بجلی کے نرخوں میں اچانک کئے گئے اضافے کو قرار دیا جارہا ہے مگر ماہرین کہتے ہیں کہ اس بغاوت سے دہشت گردی ، غیر قانونی منشیات اور مذہبی شدت پسندی جیسے وہ مسائل بھی کرغزستان کی سرحد کے اندر آ سکتے ہیں جو اب تک افغانستان کے لئے مخصوص سمجھے جاتے تھے۔ مگر کرغزستان کی سیاست پر نظر رکھنے والے ابراگیموف اور سوئم بایوف جیسے ماہرین کا خیال ہے کہ ان مسائل کو کرغزستان سے باہر رکھنے میں چین ، روس اور امریکہ تینوں کا اپنا اپنا مفاد ہے۔

XS
SM
MD
LG