رسائی کے لنکس

کرغزستان : نسلی فسادات سے پاکستانی مشکلات کا شکار


پاکستانی عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں پچھلے کئی روز سے جاری نسلی فسادات میں ایک پاکستانی طالب علم ہلاک ہو گیا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران 15 پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات کی تصدیق کے لیے بشکک میں پاکستانی سفیر کرغز حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ ہلاک ہونے والے طالب علم کا تعلق جھنگ شہر سے بتایا گیا ہے۔

جنوبی شہروں اوش اور جلال آباد میں کرغز گروپوں اور اقلیتی ازبک برادری کے درمیان تین روز سے جاری جھڑپوں میں اب تک 82 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ حالات پر قابو پانے کی کوشش میں کرغستان کی عبوری حکومت نے ان علاقوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے۔

کرغزستان : نسلی فسادات سے پاکستانی مشکلات کا شکار

کرغزستان : نسلی فسادات سے پاکستانی مشکلات کا شکار

سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ متحارب گروپوں کی جانب سے کرغزستان کے شہر اوش میں یر غمال بنائے گئے افراد میں اُن کے بقول غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق لگ بھگ 15 پاکستانی طلبہ بھی شامل ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ کرغستان میں پاکستانیوں کی کل تعداد تقریباً 1,200 ہے جن میں اکثریت طالب علموں کی ہے لیکن وزیر خارجہ قریشی کے بقول خوش آئند بات یہ ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے باعث زیاد ہ تر طالب علم ملک میں موجود نہیں۔

واضح رہے کہ میڈیکل اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کرغزستان اور دوسری وسطی ایشیائی ریاستوں میں نسبتاََ سستی ہے اس لیے پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس ہفتے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شامل ملکوں نے بھی کرغزستان کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور علاقے کے تمام ملکوں پر زور دیا گیا کہ وہ امن اومان کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

XS
SM
MD
LG