رسائی کے لنکس

کرغزستان میں اپوزیشن اقتدار پر قابض، ہنگاموں میں 68 ہلاک

  • ب

وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے پُر تشددہنگاموں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہلاکت خیز جھڑپوں کے ایک روز بعدملک کی سیاسی اپوزیشن نے اقتدار پر قبضہ کر کے سابق وزیر خارجہ روضا اوتن بائیووف کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے روسی وزیراعظم ویلاد میر پیوتن سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی ہے۔

اپوزیشن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم دانی یار اوسنوف اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرغستان کے صدر قرمان بِک باکیوف دارالحکومت بشکِک سے جنوبی شہر اوش فرار ہو گئے ہیں جو اُن کا مظبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے تک دارالحکومت میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جار ی رہا جبکہ دن کے وقت کئی عمارتوں کو آگ لگانے کے بعد بلوائی لوٹ مار بھی کرتے رہے۔ کرغز حکام نے ہنگاموں میں 68 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کم ازکم 100 تھی۔

واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تشدد کے ان واقعات کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں۔

کرغزستان میں امریکہ کے زیر استعمال ایک اہم ہوائی اڈہ بھی موجو د ہے جہا ں سے افغانستان میں عسکریت پسند وں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مدد کی جاتی ہے۔ اس وسطی ایشیائی ریاست میں پرتشدد ہنگاموں اور سیاسی عدم استحکام نے اِس فوجی ائر بیس کے مستقبل کے بارے سوالات کو جنم دیا ہے۔

بدھ کو ہونے والے ہنگاموں کی ٹیلی ویژن پر دیکھائی گئی تصاویر میں بلوائیوں کو بشکِک میں عمارتوں پر ہلہ بولتے اور اُن پر پولیس کو فائرنگ کرتے دیکھایا گیا۔ عینی شاہدین نے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور چار سو سے زائد زخمیوں کو دارالحکومت کی سڑکوں پر اور ہسپتالوں میں دیکھا۔

ملک کے دوسرے شہروں سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ 50 لاکھ آبادی پر مشتمل غربت کو شکار اس وسط ایشیائی ریاست میں صدر باکیوف کی ”ظالمانہ“ پالیسوں کے خلاف طویل عرصے سے لوگ بے چین اور مشتعل ہو رہے تھے۔

صدر باکیوف نے بھی اپوزیشن کی بغاوت کے ذریعے 2005 ء میں اقتدار سنبھالا تھا جسے انقلاب ِ ٹیولِپ کا نام دیا گیا۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد کرغز صدر نے تما م اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے اور میڈیا پر پابندیوں کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔

ملک میں پُر تشدد ہنگاموں کے تازہ واقعات منگل کو شمال مغربی قصبے تالاس میں شروع ہوئے جہاں حزب مخالف کے کارکنوں نے صوبائی حکومت کے دفاتر پر دھاوا بول دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG