رسائی کے لنکس

’’ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اندازوں سے دس گنا زیادہ‘‘


اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کرغزستان میں نسلی فسادات نے چار لاکھ افراد کو گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ہمسایہ ملک اُزبکستان کی سرحد کے قریب عارضی کیمپوں میں جمع ہے جہاں نہ خوارک ہے اور نہ پانی۔

کرغزستان کی عبوری حکومت کی سربراہ روزا اوتان بائیوا نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے خونریز نسلی فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اندازوں سےدس گنازیادہ ہو سکتی ہے۔

کرغز حکام کے مطابق ملک کے جنوبی شہروں اوش اور جلال آباد میں 10 جون کو شروع ہونے والے پرُتشدد واقعات میں لگ بھگ 200 افراد ہلاک اور دوہزار زخمی ہو گئے ہیں۔

لیکن جمعہ کو روسی اخبار ”کامرسانت“ کو دیے گئے انٹریو میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں جب ملک کی عبوری سربراہ اوتان بائیوا سے ایک سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ سرکاری اعداد و شمار کو دس سے ضرب دیں گی۔ ” کیونکہ ملک کے دیہی اورمضافاتی علاقوں میں بہت زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ہمارے رسم و رواج کے مطابق مُردوں کو فوری طور پر اور سورج غُروب ہونے سے پہلے دفنا دیا جاتا ہے۔‘‘

کرغزستان کی عبوری سربراہ نے فساد زدہ شہر اوش کا دورہ کیا جہا ں اُنھوں نے ایک بیان میں اِس تنقید کو مسترد کیا کہ اِقتدار سنبھالنے کے بعد اُن کی عبوری حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور خاص طور پر نسلی فسادات کو روکنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کرغزستان میں نسلی فسادات نے چار لاکھ افراد کو گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ہمسایہ ملک اُزبکستان کی سرحد کے قریب عارضی کیمپوں میں جمع ہے جہاں نہ خوارک ہے اور نہ پانی۔

اقوام متحدہ کی ایک ترجمان کے مطابق بے دخل ہونے والے ایک لاکھ افراد نے اُزبکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ عالمی تنظیم کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں حالات اب بھی خراب ہیں جہاں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں اقلیتی اُزبک خاندان گھروں میں محصور ہیں کیونکہ حملوں کے خوف سے اُنھوں نے اپنے گھروں کے گرد رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جب کہ خوفزدہ مہاجرین گھروں کو واپس جانے سے گریزاں ہیں۔

دارالحکومت بشکک میں ایک بیان میں عبوری نائب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اوش میں صورت حال بہتر ہو رہی ہے اور انھوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ملک میں 27 جون کو ہونے والے آئینی ریفرنڈم میں ضرور حصہ لیں۔

دریں اثناء انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر بھیجی جانے والی بین الاقوامی امداد کرغزستان کے جنوبی شہروں میں پہنچنا شروع ہو گئی ہے جس میں خیمے اور کمبل شامل ہیں۔ لیکن امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سلامتی کے خدشات اس ہنگامی امداد کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے مہاجرین کے بحران سے نمٹنے میں اُزبکستان کی حکومت کی مدد کے لیے 37 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ایک ہوائی جہاز40 ٹن توانائی سے بھر پور بسکٹ لے کر اُزبک شہر اندیجان پہنچ گیا جب کہ ایک دوسرا جہاز خیمے اور ادویات لے کر جمعہ کو پہنچے گا۔

روس اور امریکہ نے کرغزستان کے لیے ہنگامی امداد بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکہ نے تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم امدادی کاموں کے لیے مختص کی ہے ۔ معاون امریکی وزیر خارجہ رابرٹ بلیک جمعے کو ازبکستان پہنچے ہیں جہاں ایک پناہ گزین کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کرغزستان کے جنوبی علاقوں میں جاری صورتحال کو ’’انسانی المیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس پر سخت تشویش ہے۔ انھوں نے کرغزستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ ان پرتشدد کارروائیوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم نے رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ کرغزستان اور اُزبکستان کی مدد کریں اور تنظیم نے ہلاکت خیزنسلی فسادات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔

کرغزستان کے جنوبی حصے سابق صدر کرمان باقیوف کا مضبوط گڑھ مانے جاتے ہیں جنہیں اپریل میں اپوزیشن نے ایک خونی بغاوت کے ذریعے برطرف کر دیا تھا۔ معزول صدر نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ نسلی فسادات کے پیچھے اُن کے حامیوں کا ہاتھ ہے۔


XS
SM
MD
LG