رسائی کے لنکس

حکام کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ دہشت گردوں کی کارروائی ہے جس میں خودکش حملے کے بعد کار بم دھماکے کیے گئے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارتخانے کے قریب ہونے والے دم بم دھماکوں می سفارتخانے کے ثقافتی امور کے مشیر سمیت کم ازکم 23 افراد ہلاک اور 146 زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ دہشت گردوں کی کارروائی ہے جس میں خودکش حملے کے بعد کار بم دھماکے کیے گئے۔

لبنان کے وزیرصحت علی حسن خلیل کا کہنا تھا کہ ’’یہ پوری طرح سے دہشتگردانہ کارروائی ہو سکتی ہے، یہ مجرمانہ اور قابل مذمت اقدام ہے جس میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ خطے میں جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کی ایک کڑی ہے۔‘‘

دھماکے کے بعد سفارت خانے سے دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا جب کہ کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

لبنان کے ٹی وی نے ایرانی سفارتی ذرائع سے منسوب ایک خبر میں کہا کہ سفارت خانے میں موجود افراد کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا۔

ٹی وی کے ایک کیمرہ مین نے کہا ہے کہ اس نے ایرانی سفارتخانے کے ایک داخلی دروازے پر چھ لاشیں دیکھیں جب کہ ارد گرد جسمانی اعضا بکھرے پڑے تھے۔

’’بہت شدید نقصان ہوا ہے، یہ ایسا نظر آتا ہے کہ کار بم تھا۔ ایک کار وہ تباہ ہوئی پڑی تھی جب کہ دو مرسڈیز کاریں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔‘‘

لبنان میں حزب اللہ کے جنگجو پڑوسی ملک شام میں صدر بشار الاسد کی فورسز کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور منگل کو بیروت کے جس علاقےمیں یہ دھماکا ہوا وہ بھی حزب اللہ کے حامیوں کا گڑھ مانا جاتا ہے اور اس سے قبل بھی حالیہ مہینوں میں حزب اللہ کے زیر اثر علاقوں میں تین دھماکے ہو چکے ہیں۔


اگست میں شیعہ اور سنی علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم ازکم 66 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق منگل کو ہونے والوں میں سے ایک بظاہر خودکش بمبار کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔
XS
SM
MD
LG