رسائی کے لنکس

جنوبی افریقہ میں کچی آبادیوں کے مسائل


ان کچی آبادیوں میں مقیم افراد اس علاقے میں مدد کرنے والوں کی کوششوں کو بےسود بنانے پر تلے ہیں۔ وہ یہاں پر کام کرنے والے رضاکاروں کی مدد نہیں کرتے۔

جنوبی افریقہ میں 20 لاکھ سے زائد ایسے لوگ ہیں جنہیں ابھی تک باقاعدہ طور پر کہیں آباد نہیں کیا جا سکا۔

ان لوگوں کو پانی، بجلی اور صفائی کی سہولیات جیسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ مسائل شدید نوعیت کے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر جوہانسبرگ کے شمال میں واقع ایک چھوٹی سی بستی ڈائپس لوُٹ میں 30 لوگوں کے لیے صرف ایک بیت الخلاء موجود ہے۔

لیکن مقامی آبادی کی مدد کرنے والی ایک چھوٹی تنظیم کے مطابق ان مسائل کا ذمہ دار صرف حکومت کو ہی ٹھہرانا غلط ہے۔ تنظیم کے عہدیداران کے بقول لوگوں کو یہاں زندگی گزارنے کے آداب نہیں آتے، جس کی وجہ سے بھی یہاں کے لوگوں کا معیار ِ زندگی بلند کرنے کی کوششیں بیکار جا رہی ہیں۔

لکی منیاسی اس علاقے کے ایک مکین ہیں اور اس علاقے کا مزاج کچھ یوں بیان کرتے ہیں، ’’اس علاقے میں اسکولوں میں بچوں کو اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کا انتظار رہتا ہے۔ بچوں کو یہاں کی ناہموار اونچی نیچی سڑکوں پر جہاں جا بجا پتھر بکھرے پڑے ہوتے ہیں کھیلنا پسند ہے‘‘۔

اپنی کمیونٹی کے لیے لکی کی ذمہ داری ہے اُن رنگ برنگے بیت الخلاؤں کی صفائی جو سڑکوں کے کنارے جا بجا بنے دکھائی دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’’آپ دیکھ سکتے ہیں یہاں پر پانی بہہ رہا ہے اور ضائع ہو رہا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس جگہ کو صاف کریں اور جہاں سے پانی بہہ رہا ہے اسے ٹھیک کریں‘‘۔

ڈائپس لوُٹ جوہانسبرگ کے قریب آباد ہونے والی قدرے نئی آبادیوں میں سے ایک ہے جو انیس برس پہلے وجود میں آئی۔ تب ہی یہاں پر حکومت نے بیت الخلاء اور پانی کا انتظام کیا تھا۔

لیکن لکی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے حکومت نے پلٹ کر اس جگہ کی خبر نہیں لی۔ لہذا ان مسائل کے حل کے لیے انہوں نے دو برس پہلے دو درجن کے قریب رضاکار تیار کیے تاکہ علاقے میں موجود بیت الخلاؤں کو ٹھیک کیا جا سکے۔

لیکن اب لکی محض ان پانچ لوگوں میں سے ایک ہیں جو ابھی تک یہ مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں اس کام کے عوض یومیہ سترہ ڈالر ملتے ہیں۔

لکی کا تعلق مقامی اے این سی پارٹی سے ہے اور وہ اپنے علاقے سے اس پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی منتخب کیے گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی نئی ذمہ داری اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اپنے علاقے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

ان کے الفاظ میں، ’’پچھلے ہفتے جوہانسبرگ میں ایک کانفرنس میں میری کارکردگی کو سراہا گیا۔ میں اپنا دفتر چھوڑ چکا ہوں، اب میں نیلی وردی پہنتا ہوں اور اپنے علاقے کے بیت الخلاؤں کی صفائی کرتا ہوں‘‘۔

لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ لکی کی ان کوششوں اور سرگرمیوں کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی کمیونٹی بھی ان کی کوششوں کا اعتراف کرتی ہے اور انہیں سراہتی ہے۔

اینڈی سیوا اس علاقے میں بیت الخلاء کے باہر کمیونٹی کے ایک مشترکہ نل سے کپڑے دھوتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ لکی کو ان کے بوٹ اور نیلی وردی کے بغیر نہیں پہچان پاتیں، اس بات کے باوجود کہ وہ لکی کو اپنے علاقے میں اکثر دیکھتی رہتی ہیں۔

ان کے الفاظ میں، ’’اگر علاقے کے لوگ آپ کی مدد نہیں کرتے تو پھر ایسے چند لوگوں کی کوششیں بیکار ہیں جو اس علاقے کی اور یہاں کے مکینوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر لوگوں کاعمومی رویہ یہ ہے کہ وہ اِدھر اُدھر کچرا پھینکتے رہتے ہیں۔ یہاں پر پھیلا ہوا سارا کوڑا کرکٹ ہم نے بکھیرا ہے۔ اور اس علاقے کی گندگی بھی ہماری وجہ سے ہی ہے۔‘‘

لکی کو بھی مقامی لوگوں سے ایسی بہت سی شکایات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ علاقے کے مکین اپنے سب سے بڑے دشمن خود ہیں۔

ان کے مطابق، ’’ہم جب بھی یہاں پر کوئی نئی چیز لگاتے ہیں، مثلاً کوئی نل وغیرہ تو شرارتی لوگ اسے یہاں سے اتار کر لے جاتے ہیں اوراسے ذاتی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ممکن ہے کہ وہ اسے دھات کی ری سائیکلنگ کے لیے استعمال کرتے ہوں۔ بہرحال ہمیں معلوم نہیں کہ وہ اسکا کیا کرتے ہیں۔ لیکن ہماری کمیونٹی میں سے نئے نل اکثر غائب ہو جاتے ہیں۔‘‘

ان کی تنظیم Wassup Diepsloot نے آگہی پھیلانے کی غرض سے بیت الخلاؤں کے باہر چند پیغام بھی لکھے ہیں، مثلا ’’مجھ سے محبت کریں اور مجھے صاف رکھیں‘‘، ’’مجھے تمیز سے استعمال کریں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن اسی تنظیم کے ایک رضا کار جیک مولوکوم کہتے ہیں کہ ان پیغامات سے بظاہر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وہ کہتے ہیں، ’’ہمیں یہاں پر ایسے لوگوں کا سامنا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ سرکاری املاک ہیں اور ان کی توڑ پھوڑ جائز ہے۔ یہاں پر ایسے لوگ ہیں جو RDP کے تحت یا حکومتی خرچے پر نیا گھر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا جب بھی آپ اس جگہ پر چیزیں ٹھیک کرنے جاتے ہیں تو وہ آپ سے کہتے ہیں، ’’یہ آپ کیسے ٹھیک کریں گے؟‘‘ اس کا مطلب ہے کہ ہم یہ حرکتیں کبھی نہیں چھوڑیں گے اور یہاں سے نہیں جائیں گے‘‘۔

RDP یا Reconstruction and Development Program (تعمیرِ نو اور تعمیر و ترقی کا پروگرام) نیلسن منڈیلا کی حکومت کی جانب سے 1994 میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد اسی طرح کی آبادیوں میں مقیم سیاہ فام جنوبی افریقیوں کو گھر اور مختلف سہولیات فراہم کرنا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت اب تک 14 لاکھ گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ اور حکومت 2014 تک ملک سے ایسی آبادیوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
XS
SM
MD
LG