رسائی کے لنکس

پاکستان میں غذائیت کا مسئلہ، نئی حکمتِ عملی اپنانے پر زور

  • شہناز نفيس
  • واشنگٹن

فائل

فائل

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں نوزائدہ بچوں کی ایک تہائی اموات کا تعلق غذائیت کی کمی سے بتایا گیا ہے

پاکستان میں غذائیت کے مسئلے کے بارے میں ایک قومی سروے رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ جس میں اس مسئلے کا گہرا جائزہ لیا گیا ہے اور ایک جامع حکمتِ عملی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں نوزائدہ بچوں کی ایک تہائی اموات کا تعلق غذائیت کی کمی سے بتایا گیا ہے۔

قومی سطح پر اس تحقیق کے سربراہ، ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’راؤنڈ ٹیبل‘ میں اس مسئلے کا تفصیلی احاطہ کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ سروے کی مدد سے نہ صرف پورے ملک میں غذائی صورتِ حال کے بارے میں اعداد و شمار بتائے گئے ہیں، بلکہ بچوں اور ماؤں کی صحت سے متعلق بھی معلومات جمع کی گئی ہیں۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اس کی نوعیت کا یہ ایشیا میں سب سے بڑا سروے ہے، خاص کر بچوں اور ماؤں کی صحت اور غذائیت کے نقطہٴ نظر سے۔

ڈاکٹر بھٹہ نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ تحقیق کے دوران، صحیح صورتِ حال کے ادراک کے لیے اس میں بایو کیمیکل ٹیسٹ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ غذائیت کے معاملے کو صحت کی دیکھ بھال کے مجموعی نظام میں شامل کیا جائے اور صحت سے متعلق توجہ دینے کے لیے قومی سطح پر ایک حکمتِ عملی درکار ہے۔ تب ہی، خاطر خواہ نتائج نکل سکتے ہیں۔

اِس سلسلے میں، اُنھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2001ء میں جب اُن کے گروپ نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں آؤڈین کی کمی کا مسئلہ نہ صرف شمالی علاقہ جات بلکہ پورے ملک میں موجود ہے۔ تاہم، ایک منظم کوشش سے گذشتہ 10سال میں حکومت اور کئی ’این جی اوز‘ نے آؤڈین ملا نمک پورے ملک میں متعارف کرایا؛ اور سروے سے پتہ چلا ہے کہ مسئلہ جو پہلے چالیس/پچاس فی صد کے قریب تھا اب کم ہو کر پانچ سے دس فی صد رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر بھٹہ نے کہا کہ یہ دراصل ایک مربوط کوشش کا ثمر ہے۔

اُنھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ غذائیت کا مسئلہ تقریباً ملک کے ہر صوبے میں کسی نہ کسی سطح پر موجود ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ملک گیر پیمانے پر ایک جامع پلان کی ضرورت ہے، جس کا، بقول اُن کے، اِس وقت فقدان ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد میں اِس قومی سروے کے اجراٴ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ترقی اور منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت غذائیت کے مسئلے پر توجہ دینے کی خاطر، ایک ’ٹاسک فورس‘ کے قیام کا ارادہ رکھتی ہے۔

اُنھوں نے غذائیت کی کمی کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لیے ایک مہم شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG