رسائی کے لنکس

لاہور: دہشت گردی کے ایک اور مجرم کو پھانسی دے دی گئی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اکرام الحق کو آٹھ جنوری کو پھانسی دی جانی تھی لیکن تختہ دار پر لٹکائے جانے سے کچھ دیر قبل ہی اسے ملتوی کر دیا گیا۔

پاکستان میں ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے اکرام الحق کو 14 سال قبل ایک شخص کو قتل کرنے کے جرم میں ہفتہ کو پھانسی دے دی گئی۔

سزائے موت پر عملدرآمد ہفتہ کی صبح لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کیا گیا۔

اکرام الحق نے 2001ء میں شورکوٹ کے علاقے میں ایک امام بارگاہ میں نیئرعباس نامی شخص کو قتل کیا تھا۔

اسے 2004ء میں فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی اور اعلیٰ عدالتوں میں اس کی اپیل مسترد ہونے کے بعد صدر مملکت نے بھی اس کی رحم کی اپیل نامنظور کر دی تھی۔

اکرام الحق کو آٹھ جنوری کو پھانسی دی جانی تھی لیکن تختہ دار پر لٹکائے جانے سے کچھ دیر قبل ہی اسے ملتوی کر دیا گیا۔

اس التوا کی وجہ مقتول کے لواحقین اور مجرم میں ہونے والی صلح بتائی گئی۔ صلح نامہ کے بعد یہ معاملہ دوبارہ عدالت میں بھیج دیا گیا۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق جج کے سامنے صلح نامے میں شریک آٹھ افراد میں سے صرف تین پیش ہوئے جس پر عدالت نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔

گزشتہ ماہ وزیراعظم نواز شریف نے پشاور اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والوں کی پھانسی پر عملدرآمد بحال کر دیا تھا جو کہ گزشتہ چھ سال سے معطل چلا آرہا تھا۔

اس فیصلے کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں اب تک 20 مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG