رسائی کے لنکس

لاہور خودکش بم دھماکے ، ہلاکتوں میں اضافہ

  • ب

لاہور میں بد ھ کی شام شعیہ برادری کے مذہبی جلوس پر ہونے والے خودکش بم حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 35 ہو گئی ہے جب کہ 200 سے زائد زخمی لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ جمعرات کی صبح ناصر باغ میں ادا کی گئی اور اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جب کہ شہر کی تاجر برادری نے یوم شہادت علی کے جلوس پر خودکش حملوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں پر احتجاجاً مارکیٹیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بم دھماکے تین مختلف مقامات پر ہوئے تھے ، پہلا دھماکا اُس وقت ہوا جب یوم شہادت علی کا جلوس کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہورہا تھا جب کہ چند منٹ کے وقفے سے اس کے قریب ہی دوسرا دھماکا بھی ہوا۔ تیسرا زوردار خودکش بم دھماکا کربلا گامے شاہ سے کچھ فاصلے پر ہجوم بھاٹی چوک پر ہوا۔

دھماکوں کے بعد شہر میں ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے حکومت نے رینجرز کو طلب کر لیا ہے ۔

دو ماہ قبل لاہور میں یکم جولائی کو داتا گنج بخش کے مزار پر دو خودکش بم دھماکوں میں 40 سے زائد افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں احتجاج کیا گیا ۔

پنجاب کے دارالحکومت میں یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب جنوبی پنجاب میں حکومت سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے نمٹنے اور متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں مصروف ہے۔

XS
SM
MD
LG