رسائی کے لنکس

لاہور: خودکش بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک


لاہور پولیس کے مطابق یہ دھماکا خود کش بمبار کی کارروائی تھی جو پولیس لائنز میں داخل ہونا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اس کے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا ہو گیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ دھماکا منگل کی دوپہر پولیس لائنز کے باہر ہوا اور اُس وقت وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

لاہور پولیس کے سربراہ نے جائے وقوع پر صحافیوں کو بتایا کہ خودکش بمبار پولیس لائنز میں داخل ہونا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اس کے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا ہو گیا۔

دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ یہاں کھڑی کم ازکم دس گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا اور بعض میں آگ بھڑک اٹھی۔

پولیس نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لیا اور زخمیوں کو شہر کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ دھماکے کے وقت پولیس لائنز میں سکیورٹی سے متعلق اہم اجلاس جاری تھا۔

حکام کے مطابق سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کی وجہ سے حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ تفتیش کار جائے وقوع سے شواہد جمع کر کے تحقیقات شروع کر چکے ہیں۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان سے حال ہی میں علیحدہ ہونے والے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھیوں کو دی جانے والی پھانسیوں کا ردعمل قرار دیا۔

گزشتہ سال جون میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد ملک کے دہشت گردانہ واقعات میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

لیکن گزشتہ دسمبر میں پشاور کے ایک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے فورسز اور قانون نافذ کرنے والوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی۔

تاہم ایک ماہ کے دوران جنوبی شہر شکار پور اور شمال مغربی شہر پشاور سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے ہلاکت خیز بم دھماکوں میں ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تقریباً تین ماہ قبل لاہور کے قریب واہگہ بارڈر پر بھی ایک خودکش دھماکا ہوا تھا جس میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG