رسائی کے لنکس

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

  • افضل رحمن

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

مادھولال حسین کے عرس پر ملک بھر سے ملنگ جمع ہوتے ہیں اور اس میلے کو ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع باور کیا جاتا ہے۔ زائرین عرس پر آتے ہیں اور جنہوں نے چراغوں کی منت مانی ہوتی ہے وہ مادھولال حسین کے مزار کے احاطے میں واقع بہت بڑے کنویں میں عرس کے دِنوں میں مسلسل جلنے والی آگ میں منّت کے چراغ اور موم بتیاں ڈالتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ شاہ حسین کے مزار کے اِردگرد درجنوں مقامات پر ملنگوں کے ڈیرے بھی لگ جاتے ہیں۔ روایت تو یہ ہے کہ ملنگ یہاں آکر بھنگ اور پوست وغیرہ پیتے تھے مگر اب ملنگوں کے اِن ڈیروں پر زیادہ تر چرس، ہیروئن اور راکٹ کا نشہ ہوتا ہے اور بھنگ اور پوست کا استعمال نسبتاً کم ہوگیا ہے۔

مادھولال حسین کا عرس لاہور میں شالیمار باغ کے عقب میں واقع اِن بزرگوں کی درگاہ پر مارچ کے آخری ہفتے میں تین روز تک جاری رہتا ہے۔ اس برس بھی روایت کے مطابق یہاں عرس کی تقریبات ہو رہی ہیں، چراغوں کا میلہ لگا ہوا ہے اور ملک بھر سے آنے والے ملنگوں کی پذیرائی بھی جاری ہے۔ یہ ملنگ عرس سے ہفتہ بھر پہلے ہی یہاں آنا شروع ہوجاتے ہیں اور آنے کے بعد یہاں یہ مختلف ڈیروں کے مہمان ہوتے ہیں۔

مادھولال حسین کے مزار کے اِردگرد علاقے میں درجنوں ڈیرے ہیں جو روایتی طور پر اِن ملنگوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ یہاں ایک قدیم ڈیرے کے منتظم بابا بشیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تقسیمِ ہند سے پہلے اس درگاہ پر بمبئی ، کلکتہ اور مدراس تک سے ملنگ آتے تھے لیکن اب اُن کےبقول پاکستان کی مختلف درگاہوں ہی سے ملنگ مادھولال حسین کے مزار پر سالانہ حاضری کے لیے آتے ہیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ زیادہ تعداد ملنگوں کی پنجاب سے آتی ہے۔ اس کے بعد سندھ سے اورخیبرپختنونخواہ اور بلوچستان سے بھی کچھ ملنگ یہاں پہنچتے ہیں۔

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

بابا بشیر نے کہا کہ وہ اپنے بزرگوں کی روایت کے مطابق ملنگوں کے لیے ڈیرہ چلا رہے ہیں اور آنے والے ملنگوں کی جتنی ہوسکتی ہے خدمت کررہے ہیں تاہم اُن کو شکوہ تھا کہ اب پُرانے ملنگ تو رہے نہیں اور جتنے نئے ملنگ ہیں یہ بھنگ یا پوست کا نشہ کرنے کی بجائے ہیروئن، چرس اور راکٹ کا نشہ کرتے ہیں۔ لہذا اکثر بے ہوش پڑے رہتے ہیں۔ بابا بشیر نے بتایا کہ نشہ کرنے والے کو یہاں بھی جہاز کہتے ہیں کیونکہ یہ ملنگ اکثر نشہ کرنے سے پہلے اپنے ساتھ والے کو یہ کہتے سُنائی دیتے ہیں کہ "لو بھائی اب میں اُڑنے لگا ہوں" اور اس کے بعد راکٹ وغیرہ کھا لیتے ہیں۔

اس ڈیرے پر ملنگوں کی خدمت کرنے والے ایک اہلکار عبدالمجید نے بتایا کہ ان ملنگوں میں سے اکثر کی صحت ٹھیک نہیں اور ہیروئن وغیرہ کے نشے نے اِن کو برباد کرکے رکھ دیا ہے مگر یہ کسی کی سُنتے ہی نہیں۔ عبدالمجید کا کہنا تھا کوئی چالیس برس پہلے عرس کے دِنوں میں جب ملنگ آتے تھے تو آکر کہتے تھے ہمیں سبزی دے دیں، آٹا دے دیں، بُوٹی دے دیں اور کونڈی ڈنڈا دے دیں۔ اس کے بعد وہ کھانا وغیرہ پکا کر کھاتے رہتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ بھنگ گھوٹتے اور پیتے رہتے تھے۔

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

عبدالمجید نے بتایا کہ اُن ملنگوں کی صحت اچھی ہوتی تھی اور وہ مسلسل بیس سال یا تیس سال تک اس عرس پر آتے رہتے تھے۔ اُن کے بقول آج کل کے یہ ملنگ تو دو چار سال تک عرس پر آتے ہیں اور پھر نجانے کہاں غائب ہوجاتے ہیں اور ہمیں نئی شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور نئے جتنے بھی آتے ہیں وہ یا تو پُڑیا کے شیدائی ہوتے ہیں یا ٹیکہ لگاتے ہیں یا پھر راکٹ کھاتے ہیں۔

بابا بشیر نے بتایا کہ عرس تو تین دِنوں کا ہوتا ہے مگر ملنگ اس درگاہ پر دس پندرہ دِن ڈیرہ ڈالے رہتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ کچھ ملنگ ہیں جو سارا سال یہاں رہتے ہیں وہ دراصل اس درگاہ کے ملنگ ہیں۔ کالا سائیں انہی ملنگوں میں شامل ہے۔ وہ بہت کم گفتگو کرتا ہے مگر وائس آف امریکہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس ملنگ نے شکایت کی کہ یہاں جو جگہ جگہ تلاشی لی جاتے ہے اس کو وہ ملنگوں کی بے حرمتی سمجھتا ہے۔

واضح رہے کہ عرس کے دِنوں میں حکومتی ادارے یہاں سکیورٹی کا سخت انتظام کرتے ہیں اور مزار تک پہنچنے سے پہلے زائرین اور ملنگوں کی پانچ مقامات پر مکمل تلاشی لی جاتی ہے۔ کالاں سائیں کا کہنا تھا کہ اس کے بہت سے ملنگ دوست اس وجہ سے یہاں آنا چھوڑ گئے ہیں کہ وہ تلاشی نہیں دینا چاہتے۔

یہاں ملنگوں سے اور ملنگوں کی خدمت کرنے والے ڈیروں سے کئی کرامتیں بھی منسوب ہیں۔ ایک ڈیرے کے منتظم نے بتایا کہ اُن کے جدِ امجد وہاں ایک دری بچھا کر بیٹھتے تھے اور جب کوئی ملنگ آتا تو دری اُٹھا کر اس کے نیچے سے دس روپے کا نوٹ نکالتے اور اس ملنگ کو دے دیتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ دوسرا کوئی شخص دری اُٹھائے تو دری کے نیچے سے اُس کو کچھ نہیں ملتا تھا۔ اُنہوں نے کہا دری تو اُنہوں نے بھی بچھا رکھی ہے مگر اس کے نیچے سے دس روپے کے نوٹ کبھی نہیں نکلے لیکن وہ اپنے بزرگوں کی اس کرامت کی یاد میں آنے والے ہر ملنگ کو دس روپے دیتے ہیں۔

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

میلہ چراغاں: ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع

ملک کی بڑی بڑی درگاہوں پر ملنگوں کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ سندھ میں شہباز قلندر کی درگاہ ملنگوں کی پذیرائی کے لیے مشہور ہے لیکن جتنا اہتمام عرس کے دِنوں میں مادھولال حسین کے مزار پر ملنگوں کے لیے ہوتا ہے اُتنا کسی اور درگاہ پر دیکھنے میں نہیں آتا۔ بابا بشیر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی سب بڑی درگاہوں پر جاچکے ہیں اور اُنہوں نے کہیں بھی ملنگوں کی نہ اتنی پذیرائی دیکھی ہے اور نہ اتنی تعداد۔ اُنہوں نے کہا کہ مادھولال حسین کے عرس کا میلہ چراغاں اگر مشہور ہے تو یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ یہاں ملک کے ملنگوں کا سب سے بڑا اجتماع بھی ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG