رسائی کے لنکس

لاہور ہائی کورٹ کی عمارت پاکستان کی اہم تاریخی و قدیم عمارتوں میں شمار ہوتی ہے

کراچی: صوبہ پنجاب کی سب سے اہم عمارتوں میں شمار ہونےوالی 'لاہور ہائیکورٹ' کی تاریخی عمارت کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے کمیونکشن ورک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عبدالقیوم کے مطابق لاہور ہاِئیکورٹ کی عمارت کو سال 2009 میں قرب و جوار میں دہشتگردی کی وارداتوں کے باعث کافی نقصان پہنچا تھا جبکہ" 2004 میں سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کے باعث عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا تھا، جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے عمارت کی بحالی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کو اسکی ساخت کےحساب سے دوبارہ مرمت کرکے بحال کیاجائَے گا۔

انگریزی اخبار ’ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق، آرکیٹیکٹ کامل ممتاز کا کہنا ہے کہ عمارت کے ایک حصے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ پلان کے مطابق، پوری عمارت کی بحالی کا کام بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ باقی حصوں میں کورٹ روم، ججز کے چیمبرز، کانفرنس روم اور دیگر حصے شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی عمارت کی بحالی کیلئے اسکی دیواروں پر چونے کے ساتھ لال پاوڈر اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ چونے سے عمارتوں کی دراڑوں کو محفوظ بنایاجائےگا، جبکہ اس اہم عمارت کے بوسیدہ ہونےکےباعث، چھت کا کچھ حصہ ختم ہوچکا تھا، جسے لکڑی کی مدد سے مرمت کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب کے شہر لاہور میں قائم لاہور ہائیکورٹ کی عمارت پاکستان کی اہم تاریخی و قدیم عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کی عمارت 150 برس پرانی ہے، جبکہ برصغیر دور سے قبل یہ پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی تحویل میں تھی۔ قیام پاکستان کےبعد 1973 کے آئیں کے مطابق اس عمارت کو 'لاہور ہائیکورٹ' کے نام سے منسوب کرکے پنجاب کی ایک اہم عدالتی عمارت قرار دیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG