رسائی کے لنکس

'جنسی زیادتی' کا معاملہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں


لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ

مقدمے میں الزام ہے کہ متاثرہ بچوں سے بھتہ بھی لیا گیا اور مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے سے لوگ خوف و ہراس کا بھی شکار ہیں۔

پاکستان میں بچوں سے مبینہ زیادتی کے منظر عام پر آنے والے سب سے بڑے واقعے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں لاہور کی عدالت عالیہ نے اس مقدمے کو عام عدالت کی بجائے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کی ایک ایک درخواست پر پنجاب کے سیکرٹری داخلہ اور ایڈووکیٹ جنرل کو بدھ کو عدالت میں پیش ہونے کا کہا تھا۔

رواں ماہ ضلع قصور کے علاقے حسین آباد سے یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد یہاں گزشتہ چند سالوں کے دوران 270 سے زائد بچوں کو نہ صرف مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا بلکہ ان کی وڈیو بنا کر بچوں کے والدین کو بلیک میل بھی کیا جاتا رہا۔

علاقہ مکینوں کا الزام ہے کہ ملزمان کو بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے اور انھیں شکایت نہ کرنے کے لیے ہراساں کیا جاتا رہا۔

مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لے کر گرما گرم بحث اور حکومت پر تنقید کے بعد پولیس نے 14 ملزمان کو گرفتار کیا اور وزیراعلیٰ پنجاب نے اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی بنا دی۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس منظور احمد ملک نے ایک شہری کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں وکیل کا موقف تھا کہ معاملے کی حساسیت اور نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مقدمے کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے۔

وکیل آفتاب باجوہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں الزام ہے کہ متاثرہ بچوں سے بھتہ بھی لیا گیا اور مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے سے لوگ خوف و ہراس کا بھی شکار ہیں۔

دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے پنجاب کے داخلہ سیکرٹری اعظم سلیمان اور ایڈووکیٹ جنرل نوید رسول مرزا کو 12 اگست کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیے تھے لیکن بعد ازاں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب یہ مقدمہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں چلایا جائے گا۔

اس واقعے پر غم و غصے کی گونج پارلیمان میں بھی سنائی دی اور پیر کو قومی اسمبلی اور سینٹ نے متفقہ طور پر مذمتی قراردادیں منظور کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ اس میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دی ہے جس میں حساس اداروں کے حکام بھی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

XS
SM
MD
LG