رسائی کے لنکس

پاکستان میں اس برس ہونے والی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کی شمولیت سے متعلق دائر ایک درخواست کی پیر کے دن لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت آخری ثابت ہوئی کیوں کہ حکومت کے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں جو جواب پیش کیا اس میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کے فارم کے’ انیکسچر سی‘ میں خواجہ سراؤں کے لئے ایک کوڈ رکھ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی فیلڈ اسٹاف کی اس ضمن میں ضروری تربیت کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔

عدالت میں پیش کئے گئے جواب کے مطابق ایک ڈیٹا پراسسنگ ٹیکنیک بھی وضح کرلی گئی ہے جس سے خواجہ سراؤں کی تعداد بقیہ آبادی سے الگ اور واضح ہو گی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت عالیہ کو یقین بھی دلایا کہ پاکستان میں 2017میں ہونے والی مردم شماری کے بعد خواجہ سراؤں کی آبادی کے مکمل اعداد وشمار موجود ہوں گے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیکٹکس کی طرف سے عدالت میں یہ تسلیم کیا گیا ہےکہ ماضی میں خواجہ سراؤں کو عام شہریوں کا درجہ نہیں دیا جاتا تھا مگر اب وفاقی، صوبائی حکومتوں اور کچھ دیگر اداروں کے تعاون سے ممکن ہوگیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو دوسرے شہریوں کے ہیں۔

خواجہ سراؤں کی تنظیموں نے مردم شماری میں اپنی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے مگر ساتھ ہی اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک سرگرم کارکن نیلی رانا نے وی او اے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کی مردم شماری کا طریقہ عام طریقے سے مختلف ہوناچاہئے کیوں کہ عام لوگ کبھی یہ نہیں بتائیں گے کہ ان کے گھر کا کون فرد خواجہ سرا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے جو گرو ہوتے ہیں ان کو اعتماد میں لیا جا نا چاہئے اور ان کے ذریعے خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن ہونی چاہئے۔ نیلی راناکا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کی تنظیموں کو بھی سماجی بہبود کی انجمنوں کے ساتھ مل کر اس کام میں ہاتھ بٹانا چاہئے اور جب رجسٹریشن کے لئے ٹیم جائے تو ایک خواجہ سرا ساتھ ہوناچاہئے تاکہ وہ رجسٹریشن کرانے والے خواجہ سراؤں کے خدشات دور کرسکے۔

گزشتہ برس کے آخر میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوئی تھی کہ ماضی میں جتنی مرتبہ مردم شماری ہو ئی خواجہ سراؤں کی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا جس پر عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت سے جواب مانگا تھا۔ پیر کو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی وساطت سے تفصیلی جواب ملنے کے بعد عدالت عالیہ نے یہ کیس ختم کردیا۔

XS
SM
MD
LG