رسائی کے لنکس

پاکستانی عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کینیڈا سے ٹیلی فون پر ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں منگل کے روز لاہور میں ہونے والے واقعے کو ’حکومت کی نااہلی‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے بنائے گئے عدالتی کمیشن کو مسترد کرتے ہیں۔

منگل کی صبح ٹی وی چینلز پر یہ اطلاع کہ لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ اور منہاج القران کے سیکریٹیریٹ کے قریب رکاوٹیں ہٹانے کے معاملے پر تحریک ِمنہاج القرآن کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا ہے، ایک افسوسناک خبر تھی۔

کئی سوالات و خدشات نے سر ابھارا۔۔۔ سڑک پر لگے بیریرز ہٹانے کا معاملہ ایک ایسا تنازعہ کیسے بن گیا جس میں آٹھ بے گناہ شہری، جن میں دو خواتیں بھی شامل تھیں، اپنی جان کی بازی ہار گئے اور 80 کے لگ بھگ ابھی بھی ہسپتالوں میں زخمی حالت میں موجود ہیں؟ کیا سڑک پر موجود حفاظتی رکاوٹیں ہٹانا اتنا ہی بڑا مسئلہ ہے کہ ریاستی اداروں اور عام شہریوں میں مرنے مارنے کی نوبت آجائے؟ حکومت کو بلڈوزر بھیجنے پڑیں، پولیس لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد گولیاں چلانے پر مجبور ہو جائے؟۔۔۔ اور اگر یہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں تو پھر سانحہ ِلاہور کے محرکات کیا تھے؟

کینیڈا میں پاکستانی عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس واقعے کو ’حکومت کی نااہلی کے ساتھ ساتھ اسے عوامی انقلاب کی تحریک کو کچلنے کی ایک کوشش‘ بھی قرار دیا۔

طاہر قادری نے 23 جون کو پاکستان آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کہتے ہیں، ’چار سال پہلے جب میں نے دہشت گردی کا فتویٰ دیا تھا تو دہشت گردوں نے قتل کی دھمکیاں دیں اور بم بلاسٹ کی دھمکیاں دی تھیں تو پولیس نے خود حکومت کے کہنے پر اور ہائی کورٹ کے کہنے پر سیکورٹی فراہم کی تھی۔ چار سال سے کسی نے شکایت نہیں کی۔ مگر میری 23 جون کو پاکستان آمد پر اچانک کیسے شکایت ہو گئی؟‘

دوسری طرف، پنجاب کے وزیر ِقانون رانا ثنا اللہ نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ تحریک ِ منہاج القرآن کے کارکنوں نے اس علاقے کو حفاظتی رکاوٹوں سے بند کرکے اسے عملاً ’نو گو ایریا‘ بنا رکھا تھا۔

رانا ثناء اللہ کے الفاظ، ’جب سے طاہر القادری صاحب کی واپسی کی خبریں آ رہی تھیں تو طاہر القادری صاحب کے پرائیویٹ لوگوں نے ان رکاوٹوں کو ٹیک اوور کر لیا۔ اور اس کے بعد اس علاقے کو عملاً نو گو ایریا بنا دیا گیا‘۔

بقول اُن کے، ’یہ لوگ جب کل گئے ہیں بیریرز کو ہٹانے کے لیے تو یہ بات واضح تھی کہ وہاں پر کوئی آپریشن نہیں ہوگا؛ ان کے ادارے یا کسی بلڈنگ کے خلاف۔ مقصد یہ تھا کہ اس علاقے کو کھول دیا جائے‘۔

مگر طاہر القادری کہتے ہیں کہ رات کو دو بجے اگر رکاوٹیں ہی ہٹانا مقصود تھا تو پھر پولیس سیکریٹیریٹ کے اندر کیوں داخل ہوئی؟ طاہر القادری کے بقول، ان کے لوگ نہتے تھے اور ان میں سے کسی نے گولی نہیں چلائی۔

طاہر القادری کے الفاظ میں: ’سیکریٹریٹ میں کون سے بیریرز تھے، بتائیے؟ بیریر تو انہوں نے ہٹا دئیے تھے۔ اور میرے گھر پر انہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کی۔ 33 برس کی زندگی میں آج تک گولی چلی نہیں ہے‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ، ’ہمارے گارڈ اندر ہوتے ہی نہیں ہیں۔ وہ باہر دروازے پر کھڑے تھے۔ اور اگر وہ گولیاں چلاتے تو 8,10 آدمی ان کے بھی مارے جاتے۔ کسی ایک شخص نے گولی نہیں چلائی۔ نہتے کارکنوں نے پولیس کے پھینکے ہوئے پتھر انکو مارے۔ یا ڈنڈوں سے اپنا دفاع کیا۔ نہ کوئی اسلحہ تھا نہ کوئی گولی چلی۔۔۔ ‘

پنجاب کے صوبائی وزیر ِ قانون کا کہنا ہےکہ اس افسوسناک واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ، ’وہ کیا محرکات تھے جن کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس کے متعلق حکومت نے ہائی کورٹ کے جج کے تحت جوڈیشل کمیشن قائم کیا ہے کہ آیا اس میں پولیس کی طرف سے کوئی تجاوز ہوا ہے یا پھر وہ کیا حالات تھے کہ جو اس صورتحال کو اس طرف لے گئے؟ اور اس میں کون سی سائیڈ قصوروار تھی؟ جس غلطی کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا‘۔

مگر، طاہر القادری نے جوڈیشل کمیشن کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بقول اُن کے، وہ اس واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے قائم کردہ کسی جوڈیشل کمیشن کو نہیں مانتے۔

طاہر القادری کے الفاظ، ’ہم جوڈیشل کمیشن کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ کمیشن بنیں گے جب ان کا ظالمانہ اقتدار ختم ہو گا اور rule of law آئے گا اور عدلیہ آزاد ہوگی اور کمیشن قانون کے مطابق آزاد ہوں گے۔ آپ دیکھیں کہ پولیس سے کیا کام لیا ہے انہوں نے؟ دنیا کے کسی ملک میں کبھی تاریخ میں پولیس نے یہ کام کبھی کیا ہے نہتے شہریوں پر؟ جو انہوں نے کیا‘۔

ادھر، پاکستانی تجزیہ کار اس واقعے کو ایک ’افسوسناک‘ امر قرار دے رہے ہیں۔ اُن کی نظر میں، اس واقعے میں ریاستی اداروں کی نا اہلی ایک مرتبہ پھر سامنے آئی ہے۔

دوسری طرف، چند تجزیہ کار اِن خیالات کے حامل ہیں کہ سڑک پر لگی حفاظتی رکاوٹوں پر شہریوں کی جانب سے مزاحمت کی ’بظاہر کوئی توجیہہ موجود نہیں‘ اور اس معاملے کو قانون کی روشنی میں بآسانی حل کیا جا سکتا تھا۔

اس رپورٹ کو سننے کے لیے نیچے دئیے گئے آڈیو لنک پر کلک کیجیئے:
XS
SM
MD
LG