رسائی کے لنکس

پولیس کے مطابق، تمام افراد کو ان کے بھائی نذیر نے قتل کیا ہے جو کینسر کا مریض اور تقریباً ایک کروڑ روپے کا مقروض تھا

لاہور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوہر ٹاوٴن میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کے قتل کا معمہ حل کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، تمام افراد کو ان کے بھائی نذیر نے قتل کیا ہے جو کینسر کا مریض اور تقریباً ایک کروڑ روپے کا مقروض تھا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات منگل کی دوپہر جوہر ٹاوٴن سیکٹر ای ون کے ایک مکان میں ہوئی۔ گھر کے مالک کا نام زاہد ہے۔ زاہد بھی مقتولین میں شامل ہے، جبکہ قتل ہونے والے دیگر افراد میں زاہد کے دو بھائی جن میں نذیر بھی شامل ہے، دو خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس نے اپنے طور پر کی گئی ابتدائی تفتیش کے بعد، میڈیا کو دیے گئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ نذیر نے تمام افراد کو امونیا گیس کی مدد سے بے ہوش کیا اور بعد میں انہیں تیز دھار آلے سے قتل کردیا۔ اس کے بعد، وہ مکان کی اوپری منزل پر گیا اور زہریلی گولیاں کھا کر خود بھی ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو گیا۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ نذیر کینسر کا مریض اور اب تک کنوارا تھا، جس کے سبب وہ شدید ذہنی دباوٴ میں بھی رہتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے نذیر کی لاش کے قریب سے آلہ قتل بھی ملا ہے۔ تاہم، اس کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں۔
XS
SM
MD
LG