رسائی کے لنکس

دھماکوں کے بعد لاہور میں ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ

  • عمیر ریاض

دھماکوں کے بعد جلوس کے شرکاء مشتعل ہوگئے اور انہوں نے امدادی کاروائیوں کےلیے آنے والے ریسکیو 1122 کے عملے اور موقع پہ پہنچنے والے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤکیا۔ مشتعل افراد نے جائے وقوعہ کے نزدیک واقع ایس پی سٹی کے دفتر اور پولیس تھانہ لوئر مال پہ حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی اورتھانے کی عمارت کو آگ لگادی۔ مشتعل افراد نے تھانے کی پارکنگ میں موجود دو گاڑیوں اور تین موٹرسائیکلوں کو بھی نذرِ آتش کردیا جب کے وہاں موجود عملے کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

لاہور میں ایک شیعہ مذہبی جلوس میں ہونے والے یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں 28 افراد کی ہلاکت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤگھیراؤ کے واقعات پیش آئے جبکہ مشتعل افراد کی جانب سے ایک پولیس اسٹیشن اور کئی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کردیاگیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق پہلا دھماکہ کربلا گامے شاہ کے مقام پر اختتام پذیر ہونے والے یومِ شہادتِ حضرت علی کے جلوس میں ہوا۔ دھماکہ کے وقت جائے واقعہ پہ جلوس کے ہزاروں شرکاء روزہ افطار کرہے تھے۔ پہلے دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد دوسرا دھماکہ بھی اسی مقام پہ ہوا جو زیادہ شدت کا بتایا جاتا ہے، جبکہ تیسرا دھماکہ چند منٹ کے وقفے سے جائےوقوعہ کے نزدیک بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ہوا۔

دھماکوں کے بعد جلوس کے شرکاء مشتعل ہوگئے اور انہوں نے امدادی کاروائیوں کےلیے آنے والے ریسکیو 1122 کے عملے اور موقع پہ پہنچنے والے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤکیا۔ مشتعل افراد نے جائے وقوعہ کے نزدیک واقع ایس پی سٹی کے دفتر اور پولیس تھانہ لوئر مال پہ حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی اورتھانے کی عمارت کو آگ لگادی۔ مشتعل افراد نے تھانے کی پارکنگ میں موجود دو گاڑیوں اور تین موٹرسائیکلوں کو بھی نذرِ آتش کردیا جب کے وہاں موجود عملے کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

مشتعل افراد کو منتشر کرنے کیلیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیلنگ کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج بھی کیا گیا جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔ بعد ازاں واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے لواحقین کی جانب سے شہر کے میو اسپتال کی حدود میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ میو اسپتال میں دھماکوں کے 120 زخمی زیرِ علاج بتائے جاتے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق پہلا دھماکہ کریکر کا جبکہ دیگر دو دھماکے خودکش تھے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک مبینہ حملہ آور کا سر بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ نے واقعے میں 28 افراد کے ہلاک ہونے اور ڈیڑھ سو سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے شہر میں امن وامان کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلیے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے جبکہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے واقعہ اور ہنگامہ آرائی سے متاثر ہونے والے علاقوں میں تعینات کردی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG