رسائی کے لنکس

مردم شماری کی ٹیم پر خودکش حملہ، فوجیوں سمیت سات ہلاک


پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں بدھ کی صبح ایک خودکش بم دھماکے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں سے کم از کم تین کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق بیدیاں روڈ پر اس حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں مردم شماری کے لیے جانے والی ٹیم کے افراد سوار تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور نے ’’فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا‘‘۔

کمشر لاہور عبداللہ خان سنبل نے بتایا اس حملے کے بعد سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے تاکہ کوئی اور ناخوشگوار واقعہ نا ہو، ’’بہت نظم و ضبط کی ضرورت ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کی ٹیموں کے حفاظت کے لیے سکیورٹی کے بھرپور انتظامات موجود ہیں اور مردم شماری کے عمل میں کسی بھی طرح کا تعطل نہیں آئے گا۔

مرنے والے پاکستانی فوج کے اہلکار مردم شماری کے لیے گھر گھر جانے والے عملے کی حفاظت اور اس عمل کی نگرانی پر مامور تھے۔

صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان میں گزشتہ ماہ مردم و خانہ شماری کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تھا جس میں ملک کے 63 اضلاع میں تفصیلات جمع کرنے کا عمل جاری ہے۔

بدھ کو ہونے والا حملہ مردم شماری سے وابستہ ارکان پر اس نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔

واضح رہے کہ فروری کے وسط میں لاہور میں پنجاب اسمبلی سے کچھ فاصلے پر ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG