رسائی کے لنکس

توہین قرآن کے الزام میں گرفتار ذہنی مریضہ 14 سال بعد رہا

  • افضل رحمن

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

لاہور میں عدالت عالیہ نے مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں پچھلے 14 سال سے گرفتار ایک خاتون کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ زیب النساء نامی اس خاتون کا دماغی توازن درست نہیں ہے اور وہ لاہور کے ایک طبی مرکز میں قائم عارضی جیل میں قید تھیں۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایڈوکیٹ آفتاب احمد باجوہ نے بدھ کے روز وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے زیب النساء کی غیر قانونی حراست کا معاملہ عدالت عالیہ میں اٹھایا تھا اور چیف جسٹس نے دلائل سننے کے بعد جمعرات کو ان کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

آفتاب باجوہ کا کہنا تھا کہ زیب النساء کو 1996ء میں دارالحکومت اسلام آباد کے ایک نواحی گاؤں سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب مقامی مسجد کے ایک امام قاری محمد حفیظ نے اپنے علاقے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے بارے میں پولیس کو شکایت درج کرائی۔ آفتاب باجوہ کے بقول جب درخواست گزار سے جمعرات کے روز عدالت عالیہ نے پوچھا کہ کیا وہ زیب النساء پر توہین قرآن کے الزام کا کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہیں تو اُنھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔

قاری حفیظ کا عدالت عالیہ میں کہنا تھا کہ انھوں نے ”نا معلوم افراد“ کے خلاف شکایت درج کرائی تھی اور کبھی بھی زیب النساء کا نام لے کر اُن پر توہین قرآن کا الزام نہیں لگایا تھا۔

آفتاب باجوہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ زیب النساء کی گرفتاری کے بعد جب ان کا طبی معائنہ کرایا گیا تو ڈاکٹروں نے تصدیق کی تھی کہ ان کی ذہنی حالت درست نہیں۔ تاہم و کیل صفائی کا کہنا تھا کہ زیب النساء کی بیماری کی مزید تشخیص کے بغیر ہی اُنھیں لاہور میں ایک طبی مرکز میں منتقل کر دیا گیا۔

آفتاب باجوہ کا کہنا ہے کہ جب تک زیب النساء کے اہل خانہ کو تلاش نہیں کر لیا جاتا اس قت تک ان کو بے گھر افراد کے لیے قائم مرکز میں رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں آباد اقلیتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں توہین رسالت کے قانون پر تنقید اور اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتی آئی ہیں جو اُن کے بقول بااثر افراد اپنے مخالفین خصوصاً دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

توہین رسالت کے متعدد مقدمات میں مختلف ذیلی عدالتیں اس قانون کے تحت ملزمان کو موت کی سزا سنا چکی ہیں لیکن اعلیٰ عدالتوں نے ناکافی ثبوت کی بنا پر ملزمان کو بری یا ان کی سزاوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ کبھی بھی اس جرم پر سنائی گئی موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے لیکن بعض واقعات میں مشتعل افراد نے توہین رسالت کے الزام میں گرفتار افراد کو خود حملہ کر کے ہلاک کردیا۔

تازہ ترین واقعہ پیر کے روز فیصل آباد میں پیش آیا جب توہین رسالت کے الزام میں گرفتار دو عیسائی بھائیوں کو نامعلوم افراد نے عدالت کے باہر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں رائج کیے گئے اس قانون میں ترامیم کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن مذہبی حلقوں کی مخالفت کے باعث ابھی تک ان کوششوں میں کامیابی نہیں ہوسکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG