رسائی کے لنکس

کولمبو: بنگلہ دیشی بودھوں کےخلاف پُرتشدد کارروائی پر احتجاجی مظاہرہ

  • واشنگٹن

فائل

فائل

انسانی حقوق کے گروپ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے ایک بیان جاری کیا ہے جِس میں بنگلہ دیشی حکام سے اپنی اقلیتی آبادی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے

بودھ مت سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں راہبوں نے جمعرات کے دِن سری لنکا میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ بنگلہ دیش کی بودھ برادری کے خلاف حالیہ پُر تشدد لہر پر آوار بلند کر رہے تھے۔

راہب گلاگوندوتے گناسرا نے کولمبو کےاجتماع کو بتایا کہ برما کی سرحد کے ساتھ جنوبی بنگلہ دیش میں مسلمان آبادی نے 20مندروں اور 100کاروباری مراکز کو نذر آتش کیا، جس کے بعد بودھ مت کے ماننے والوں نے جنگلوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ اُن کے مطابق، بے قصور افراد کو قتل کیا گیا ہے۔

دریں اثنا، سری لنکا میں تعینات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر شفیع الرحمٰن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ تقریباً 800 افراد نے بنگلہ دیش کے سفارت خانے کے سامنے پُر امن مظاہرہ کیا اور عملے کے ساتھ بات چیت کی۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک اطلاع کے مطابق، ایک روز قبل سری لنکا کی اقلیتی برادری کےنمائندوں نےبھی اِن پُرتشدد کارروائیوں پر آواز بلند کرتے ہوئے حکام سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

انسانی حقوق کے گروپ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے ایک بیان جاری کیا ہے جِس میں بنگلہ دیشی حکام سے اقلیتی آبادی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔

ہفتے اور اتوار کے روز ہزاروں بنگلہ دیشی مسلمان آبادی نےکاکسز بازار اوراُس کے قرب و جوار کے علاقوں میں واقع بودھ مت کی عبادت گاہوں کو ہدف بنایا۔

یہ حملے اُس وقت ہوئے جب نذر آتش کیے گئے قرآن کی تصاویر سامنے آئیں ،جس واقعے کا الزام ایک بودھ شخص پر دیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کے داخلی امور کے وزیر، محی الدین خان عالمگیر نے ہنگامہ آرائی پر اکسانے کا الزام سخت گیر افراد اور ایک اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر دیا ہے، جس کا مقصد ’قصداً اور جان بوجھ کر‘ مثالی مذہبی ہم آہنگی کےخلاف جذبات بھڑکانا تھا۔

بنگلہ دیش کے حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں اُنھوں نے تقریباً 300افراد کو حراست میں لیا ہے۔
XS
SM
MD
LG