رسائی کے لنکس

مستقبل قریب میں خلا میں پیغام رسانی کے لیے لیزر ٹیکنالوجی کو موجودہ ریڈیو کےمواصلاتی نظام کے متبادل کے طورپر استعمال کیا جا سکے گا

ناسا کے سائنسدانوں نےخلا میں پیغام رسانی کے لیے پہلی بار لیزر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔

اس کامیاب تجربے میں تصویر کو لیزر شعاع کے ذریعےخلا میں چاند کے گرد چکر لگانے والےخلائی طیارے پر داغا گیاہے۔

خلا سے متعلق امریکی ادارے نے ایک نئے لیزر اسٹیشن 'گوڈارڈ اسپیس سینٹر' ( میری لینڈ) سے'لیوناراڈو ڈاونچی' کی شاہکار پینٹنگ کی ماڈل 'مونا لیزا' کی ڈیجیٹل تصویر کو لیزر شعاع کے ذریعے چاند کے گرد چکر لگانے والے جاسوس خلائی طیارے'لونر ریکوناسینس آربیٹ (ایل آر او)' پر بھیجا ہے۔

جاسوس خلائی طیارے نے تصویر کے موصول ہوتے ہی اسے دوبارہ خلا سے ریڈیوسگنل کے ذریعے زمین پر واپس بھیج دیا ہے۔
مونا لیزا کی تصویر دو لاکھ 38ہزار 606.5میل یا تین لاکھ 84 ہزار کلو میٹر دوری کا فاصلہ طے کرتی ہوئی ناسا کے خلائی طیارے پر بھیجی گئی۔
ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق لیزرٹیکنالوجی کے ذریعے خلا میں تیز رفتار پیغام رسانی کی ابتداء ہوئی ہےجس کی مدد سے مواصلاتی خلائی طیارے ذیادہ سے ذیادہ معلومات زمین تک پہنچا سکیں گے.
اس موقع پر ناسا کے تحقیق کار'ڈیوڈ اسمتھ' نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب سائنسدانوں نے یک طرفہ لیزرٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ہزاروں میل دوری تک پیغام رسانی کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں خلا میں پیغام رسانی کے لیے لیزر ٹیکنالوجی کو موجودہ ریڈیو کےمواصلاتی نظام کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جدید مواصلاتی نظام خلا سے زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرنے میں ریڈیو سے ذیادہ مددگار ثابت ہو۔
چاند کے گرد چکر لگانے والا جاسوس طیارہ ایل آر او LRO)) کو سال 2009 میں ناسا نے چاند کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کے لیےخلا میں بھیجا تھا، جو چاند کی مٹی، زمین کی ساخت اور ماحول سے متعلق اہم معلومات اور تصاویر ریڈیو سگنل کے ذریعہ زمین پرناسا کے سائنسدانوں کو بھیجنے کا کام انجام دیتا ہے۔
یہ خلائی طیارہ لیزرٹیکنالوجی سے لیس ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں نے اپنے پہلے تجربے کے لیے'ایل آر او' کا انتخاب کیا، جبکہ سولر سسٹم سے متعلق تحقیقات کرنے والے دیگر خلائی طیاروں میں ریڈیو کے مواصلاتی نظام کے ذریعے ہی معلومات اکھٹی کی جا سکتی ہے۔
چاند سے متعلق معلومات اکھٹی کرنے والی ٹیم 'لونر آربیٹ لیزر الٹی میٹر' (LOLA ) نے مونا لیزا کی ڈیجیٹل تصویر کو لیزر کے ذریعے خلا میں بھیجنے کے لیے تصویر کو 30 ہزار4 سو پکسل میں تقسیم کیا۔

یہ پکسل خلائی طیارے ایل آر او پر باری باری لیزر کی مدد سے داغے گئے، جبکہ ہر پکسل کو داغے جانے کے درمیان وقفہ رکھا گیا۔ 300 بٹس فی سکینڈ کی رفتار سے لیزر کے ذریعے موصول ہونے والی تصویر خلائی طیارے میں بائیں جانب سےاوپر دائیں جانب نیچے کی طرف جڑتی چلی گئی۔
اس ٹرانسمیشن کا ٹیسٹ لینے کے لیے تصویر کو ریڈیو سگنل کی مدد سے زمین پر موجود ناسا کے اسٹیشن پر واپس بھیجا گیا۔ اگرچہ، تصویر اپنی اصلی حالت میں واپس نہیں آئی مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ دوری سے پہنچنے والی اس تصویر پر زمین کے موسمی اثرات مرتب ہوئے۔
تاہم، سائنسدانوں نے تصویر کو'ریڈ سولومن کوڈنگ' کی مدد سے ٹھیک کرلیاہے۔ یہ وہی طریقہ ہےجو عام طور پر سی ڈی اور ڈی وی ڈی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ناسا کے تحقیق کار 'رچرڈ وانڈریک' کے مطابق، لیزر کی مدد سے پیغام رسانی کا ذریعہ ناسا کے چاند سے متعلق اگلے مشن میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔
سائنسدانوں کی اس کامیابی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مستقبل میں خلا سے زیادہ سے زیادہ معلومات اکھٹی کرنے کے لیے لیزر ٹیکنالوجی کو بطور مواصلاتی متبادل استعمال کیا جا سکے گا۔
XS
SM
MD
LG