رسائی کے لنکس

ہنسنے سے پریشانیوں سے جھٹکارا ملتا ہے، منفی سوچوں کو مثبت سوچوں میں بدلنے میں مدد ملتی ہے اور یوں انسان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

کچھ لوگ دن رات کام کر کے، اپنی صحت خرچ کر کے دولت حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنی وہی دولت خرچ کر کے اپنی کھوئی ہوئی صحت واپس حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دیکھا جائے تو لوگ صحت مند رہنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے۔ کچھ لوگ کھانا پینا چھوڑ کر ڈائٹنگ کرتے ہیں تو بھوکے رہنے کی حدیں پار کر دیتے ہیں، کچھ ورزش کرنا شروع کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ شاید ان کے زمین پر دوڑنے سے ہی زمین گول گھوم رہی ہے اور کچھ وائٹامن کی گولیوں تو کچھ جڑی بوٹیوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت مند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بس انسان کو کوئی بیماری نہ ہو بلکہ صحت تو مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی فلاح و بہبود کا نام ہے۔

ماہرین کے مطابق صحت مند رہنے کے لئے صحت افزا متوازن غذا، معتدل ورزش، سونے، جاگنے اور کام کے صحت مند معمول اور بری عادات سے دوری ضروری ہے۔

کچھ لوگوں کو ایسی زندگی سنجیدہ اور بورنگ لگتی ہے لیکن ان کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ صحت مند رہنے کے لئے سیریس ہونے کی نہیں بلکہ نان سیریس ہونے کی ضرورت ہے۔ یعنی، ہنسیے اور صحت مند رہیے!

ریڈرز ڈائجسٹ، جو کئی زبانون میں درجنوں ممالک سے شائع ہونے والا ایک بین الاقوامی جریدہ ہے، کا کہنا ہے کہ ہنسی بہترین دوا ہے۔

'بیسٹ ہیلتھ' کے عنوان سے مضمون میں جریدہ ہنسنے کے دس فوائد گنواتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہنسنے سے جسم میں انڈورفنز نامی کیمیائی اجزا جاری ہوتے ہیں جن سے انسان نفسیاتی دباؤ میں کمی محسوس کرتا ہے اور اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے دل اور شریانوں کے امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

جریدے کے مطابق ہنسنے سے پریشانیوں سے جھٹکارا ملتا ہے، منفی سوچوں کو مثبت سوچوں میں بدلنے میں مدد ملتی ہے اور یوں انسان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ ہنسنا انسان کے دوسروں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرتا ہے اور اس کی کارکردگی کو بھی بڑھاتا ہے اور یوں ہنسنے کی عادت سے انسان جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر صحت مند رہتا ہے۔

مشہور زمانہ امریکی ادارے 'میو کلینک' کے مطابق اچھی حس مزاح تمام بیماریوں کا علاج تو نہیں کر سکتی لیکن تحقیق سے ثابت ہوتا جارہا ہے کہ ہنسنے کے بہت فوائد ہیں۔

'میو کلینک' کے مطابق ہنسنے سے انسان کی سوچ کے ساتھ ساتھ اس کے جسم پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہنسنے سے انسان کے جسم میں آکسیجن کی زیادہ مقدار داخل ہوتی ہے۔ اس کا دل، پھیپھڑے اور پٹھے متحرک ہوتے ہیں اور جسم میں مفید کیمیکلز جاری ہوتے ہیں، انسان کے جسم میں دباو کم ہوتا ہے، موڈ اچھا ہوتا ہے، بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے اور درد کم ہوجاتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر کسی کی حس مزاح کمزور ہو تو فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ ہنسنا ہنسانا سیکھا جاسکتا ہے۔

'میو کلینک' کا مشورہ ہے کہ لوگ گھر اور دفتر میں ایسی مزاحیہ تصاویر اور باتیں دیواروں پر لگا سکتے ہیں جن کو دیکھ کر انھیں ہنسی آئے اور اس مقصد کے لئے مزاحیہ فلمیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اپنے حال پہ ہنسنے سے ذہنی اور جسمانی دباو کم ہو جاتا ہے اور اسی لیے ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ شروع میں ایسا کرنا مشکل ہو لیکن اس کی مشق ضرور کرنی چاہیے۔

'میو کلینک' کے مطابق ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے جو انسان کو ہنسائیں اور پھر انسان کو بدلے میں دوسروں کو ہنسانا چاہیے۔ ادارہ کہتا ہے لطیفے جمع کر کے دوسروں کو سنانے چاہئیں لیکن اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ دوسروں کے ساتھ مذاق ضرور کرنا چاہیے مگر دوسروں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے کیونکہ یہ صحت مند ہرگز سرگرمی نہیں۔

XS
SM
MD
LG