رسائی کے لنکس

معاشرے کی تعمیر ِنو کے لیےافغان مرد و زن کو مل جل کر کام کرنا ہوگا: لارا بش

  • نجیبہ سلام
  • شہناز نفیس

ایک طرف افغانستان میں طالبان سے امن مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اِس حوالے سے جہاں بہت سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اُن میں ایک خدشہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی ہے۔

اِس خدشے کا اظہار جب یہاں واشنگٹن میں سابق خاتونِ اول لارا بش سے ایک انڑویو میں کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں امید ہے کہ امن مذاکرات میں موجود ہر کوئی افغان آئین کا احترام کرے گا، جِس میں عورتوں کے حقوق کا ذکر بھی ہے۔

‘وائس آف امریکہ’ کی افغان سروس سے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا ‘اگر دنیا پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ ریاستیں جو بہت کمزور ہیں اُن میں سے زیادہ تر ممالک میں عورتوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا اور میں نہیں چاہتی کہ افغانستان اُن ممالک میں سے ایک ہو۔’

افغانستان کی تعمیرِ نو میں عورتوں کے کردار کے حوالے سے لارا بش کا کہنا تھا کہ مردوں اور عورتوں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ اِس وقت کی اشد ضرورت ہے۔

اُن کے الفاظ میں ‘افغانستان کئی برسوں سے جنگ کی لپیٹ میں ہے اور اِس کی تعمیرِ نو کی اشد ضرورت ہے اور اِس مقصد کے حصول کے لیے مردوں اور عورتوں دونوں کا ساتھ مل کر کام کرنا بیحد ضروری ہے۔’

انٹرویو کے آخر میں لورا بش نے افغان خواتین کو ایک پیغام میں کہا کہ وہ اپنے حقوق اور ملکی کامیابی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔

XS
SM
MD
LG