رسائی کے لنکس

کرائمیا کا بحران، سفارت کاری واحد حل: اوباما


اس سے قبل، امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ کرائمیا میں ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کیا فیصلہ کریں گے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُنھیں اب بھی کرائمیا کے بحران کے سفارتی حل کی امید ہے۔

کرائمیا میں اتوار کو ریفرنڈم ہونے والا ہے، جس کے باعث یہ علاقہ یوکرین سے الگ ہو کر روس میں شامل ہو سکتا ہے۔

مسٹر اوباما نے واشنگٹن میں جمعہ کو نامہ نگاروں سے بات کی، جہاں اُنھوں نے ’سینٹ پیٹرکس ڈے‘ کی تعطیل سے قبل، آئیرلینڈ کے وزیر اعظم اِنڈا کینے سے ملاقات کی۔

دریں اثنا، امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے لندن میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات کی ہے جس میں یوکرین کے بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لندن میں تعینات امریکی سفیر کی رہائش گاہ پر جمعے کو ہونے والی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ نے بات چیت کو "مفید" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے مسئلے پر روس اور مغرب کے درمیان خلیج بدستور برقرار ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کے بجائے صحافیوں سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کی جس سے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان یوکرین کے بحران پر موجود اختلافات کا اظہار ہوتا ہے۔

امریکہ اور روس کے اعلیٰ ترین سفارتی نمائندوں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوکرین کا نیم خودمختار علاقہ کرائمیا روس کے ساتھ الحاق کے سوال پر ہونے والے ریفرنڈم کی تیاری کر رہا ہے۔

قوی امکان ہے کہ اتوار کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں کرائمیا کے عوام کی اکثریت روس سے الحاق کی منظوری دے گی۔ امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر چکےہیں۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ کرائمیا میں ریفرنڈم کے نتائج سامنے آ نے کے بعد روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کیا فیصلہ کریں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ روس کو پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اس نے کرائمیا کو اپنے ساتھ ملاکر یوکرین کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

لیکن روسی حکام اپنے موقف پر قائم ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ یوکرین میں روس نواز حکومت کے خلاف یورپ نواز حزبِ اختلاف کی بغاوت کے بعد کرائمیا کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

امریکی موقف کے برعکس صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک کرائمیا کے عوام کی خواہشات کا احترام کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روسی افواج کا باقی ماندہ یوکرین پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔

جناب لاوروف نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا کہ یوکرین کا بحران "روسیوں کا پیدا کردہ" ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرائمیا روس کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ ہے اور روس وہاں کے شہریوں کی خواہشات کا نظر انداز نہیں کر سکتا۔

ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے صورتِ حال کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے ہی تنازع کے حل کا بہت وقت ضائع ہو چکا ہے۔

ماسکو حکومت نے گزشتہ روز یوکرین کی سرحد کے ساتھ نئی فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے علاقے میں مزید ہزاروں فوجی اور بھاری اسلحہ بھجوانے کی تصدیق کی تھی۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے روس کی اس نئی فوجی نقل و حرکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ اندیشہ ظاہر کر چکے ہیں کرائمیا میں پہلے ہی سے روس کے 20 ہزار سے زائد فوجی داخل ہو چکے ہیں جنہوں نے اس علاقے کے تمام اہم تنصیبات پر قبضہ کر لیا ہے۔
XS
SM
MD
LG