رسائی کے لنکس

شام میں فضائی کارروائیاں جاری رہیں گی، روس کا اعلان


روسی طیارے کے گرنے سے قبل اور بعد کے مختلف مناظر

روسی طیارے کے گرنے سے قبل اور بعد کے مختلف مناظر

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی کارروائی "روس کو اشتعال دلانے کی سوچی سمجھی کوشش" لگتی ہے۔

روس نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے اس کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے باوجود ترکی کی سرحد سے متصل شام کے علاقے میں شدت پسندوں کےخلاف روس کی فضائی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

روسی حکومت کے ترجمان دمیتری پیسکووف نے بدھ کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں میں شامی باغیوں کےٹھکانے موجود ہیں جس کے باعث روسی طیارے سرحدی علاقے میں پروازیں کرنے پر مجبور ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ترکی کی جانب سے روسی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے باوجود علاقے میں روس فضائی حملے جاری رہیں گے۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی کارروائی "روس کو اشتعال دلانے کی سوچی سمجھی کوشش" لگتی ہے۔

لیکن انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے ردِ عمل میں روس کا ترکی کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور ماسکو حکومت اس وقت اپنی توجہ شام کے بحران پر مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ نے واقعے کے ردِ عمل میں اپنا ترکی کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا تھا۔ تاہم انہوں نے بدھ کو اپنے ترک ہم منصب میوولت کاؤشو کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

ترک وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ چند روز میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔

لیکن روس کے خبر رساں ادارے 'انٹرفیکس' نے دعویٰ کیا ہے کہ سرگئی لاوروف نے ترک وزیرِ خارجہ کے ساتھ ملاقات سے انکار کردیا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے روسی طیارے کی تباہی کے واقعے کے بعد فوج کو ہتھیاروں کا جدید نظام شام کے صوبے لتاکیہ میں قائم روسی فوجی اڈے پہنچانے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے روسی صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہتھیاروں کے جدید نظام کی منتقلی اور دیگر اقدامات کے بعد شام میں روسی طیاروں کی پروازوں کی حفاظت یقینی ہوجائے گی۔

روس کے وزیرِ دفاع سرگئی شوئیگو کے مطابق صدر پیوٹن کی ہدایت پر روسی فوج اپنا جدید 'ایس-400' میزائل نظام شام کے صوبے لتاکیہ میں نصب کر رہی ہے جو ترکی کی سرحد سے متصل ہے۔

روسی وزیرِ دفاع کے مطابق گائیڈڈ میزائل فائر کرنے کی صلاحیت کا حامل روسی بحریہ کا جنگی جہاز 'موسکوا' بھی علاقے میں بھیجا جارہا ہے۔

دریں اثنا روس کے جنگی طیاروں نے بدھ کو باغیوں کے زیرِ قبضہ شامی صوبے لتاکیہ کے کئی مقامات پر شدید بمباری کی۔

شامی باغیوں کے مطابق جن علاقوں پر بمباری کی گئی وہ اس مقام کےنزدیک ہیں جہاں منگل کو ترکی نے روسی طیارہ مار گرایا تھا جو علاقے میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہا تھا۔

ترک حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ 'سو-24' ساختہ روسی طیارے نے کئی بار ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور طیارے کے پائلٹ نے ترک حکام کی جانب سے دیے جانے والے کئی انتباہ نظر انداز کردیے تھے۔

لیکن روسی حکام کا موقف ہے کہ طیارہ سارا وقت ترک سرحد سے متصل شامی علاقے میں محوِ پرواز رہا اور کسی بھی موقع پر ترکی کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔

روسی طیارے کا ایک پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے زمین کی طرف آتے ہوئے شامی باغیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا جب کہ دوسرا پائلٹ زمین پر اترنے میں کامیاب رہا تھا۔

پائلٹوں کو بچانے کےلیے جانے والا ایک روسی ہیلی کاپٹر بھی شامی باغیوں کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائل کا نشانہ بنا کر تباہ ہوگیا تھا جس میں سوار ایک روسی اہلکار مارا گیا تھا۔

روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ شامی فوجی دستوں نے تباہ شدہ طیارے کے دوسرے پائلٹ کو بحفاظت لتاکیہ میں واقع روسی فوجی اڈے منتقل کردیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے "انتہائی مجبوری میں روسی طیارے کو مار گرانے کی کارروائی کی تھی" جس کا مقصد ان کے بقول "اپنی سلامتی اور اپنے بھائیوں کے حقوق کا تحفظ" یقینی بنانا تھا۔

بدھ کو استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ان کا ملک روس کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔

روسی طیارہ مار گرائے جانے کے چند گھنٹوں بعد صدر اوباما اور صدر ایردوان کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہوئی تھی جس کےبعد جاری ہونے والے ایک بیان میں امریکہ نے ترکی کی جانب سے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے حق کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا تھا۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے منگل کی رات جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ٹیلی فونک بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے شام کے تنازع کے سیاسی حل کی کوششیں اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف لڑائی تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

روسی حکام نے ترکی کی اس کارروائی پر زبانی کلامی تو سخت غصے اور برہمی ظاہر کی ہے لیکن روس کا ردِ عمل اب تک خاصا نپا تلا رہا ہے جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ دونوں ممالک اس معاملے پر کشیدگی کو زیادہ ہوا دینا نہیں چاہتے۔

واقعے کے بعد روس کی حکومت نے اپنے شہریوں کو سیاحت یا کسی اور غرض سے ترکی جانے سے گریز کی ہدایت کی ہے جب کہ روسی وزیرِاعظم دمیتری میدویدیف نے متنبہ کیا ہے کہ ترکی کے ساتھ ان کے ملک کے اقتصادی اور تجارتی روابط خراب ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG