رسائی کے لنکس

”قانون سازی میں بہتری کا رجحان“


”قانون سازی میں بہتری کا رجحان“

”قانون سازی میں بہتری کا رجحان“

قانون سازی کے عمل میں پچھلے سال کے مقابلے میں 2009ء میں قومی اسمبلی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس دوران مجموعی طو رپر 29بل پاس کیے گئے جب کہ پچھلے سال یہ تعداد صرف چار تھی۔ پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ منتخب ہوکر آنے والے نوجوان ارکان اور مقامی میڈیا کی طرف سے اجلاسوں میں سینئر اراکین اور وزراء کی کم حاضری پر تنقید کا سلسلہ دوسرے سال بھی جاری رہا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں جس باقاعدگی سے شرکت کی روایت کو فروغ دیا ماضی قریب میں ملک کے کسی دوسرے وزیر اعظم نے ایسا نہیں کیا ہے۔

پارلیمنٹ کی کارکردگی میں بہتری کے باوجودکئی اہم معاملات پر قانون سازی دوسرے سال بھی نہیں ہو سکی جب کہ حکومت اس حوالے سے باربار یقین دہانیا ں اور وعدے کرتی رہی۔ ان میں اراکین پارلیمان کے احتساب سے متعلق قانون سازی قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ قومی نوعیت کے اختلافی اُمور اور بحرانوں پر قومی اسمبلی کا مبینہ کمزور کردار بھی زیر تنقید رہا۔ اس بل کا مسودہ اپریل میں پارلیمان کے سامنے پیش کیا گیا لیکن پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی 10 ماہ گزرنے کے بعد بھی اس پر بحث جاری رکھے ہوئے ہے۔

عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ججوں کی تعیناتی کے معاملے پر اختلافات اور این آر او کے خلاف عدالت عظمی ٰ کے فیصلے پر عمل درآمد یہ دونوں ایسے معاملات تھے جن پر ناقدین کے بقول پارلیمنٹ کا کردارایک خاموش تماشائی کا تھا۔ لیکن پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی پلوشہ بہرام اس تنقید سے متفق نہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ این آراو سمیت دیگر سیاسی معاملات پر پارلیمنٹ نے جو موقف اختیار کیاپیپلزپارٹی کی حکومت نے نہ صرف اُسے تسلیم کیا بلکہ اُس پر عمل بھی کیا۔

جمہوریت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل غیر جانبدار تنظیم پلڈاٹ نے پارلیمنٹ کے اندر تما م جماعتوں کی مجموعی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی اہم قومی نوعیت کے مسئلے پر کو ئی بھی جماعت ایک واضح حکمت عملی یا موقف پیش کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کارکردگی کو بہتر کرنے سے پارلیمنٹ کو زیاد ہ متحرک اور فعال کیا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG