رسائی کے لنکس

وزیر قانون کی 25 مئی کوعدالت عظمٰی میں طلبی


وزیر قانون کی 25 مئی کوعدالت عظمٰی میں طلبی

وزیر قانون کی 25 مئی کوعدالت عظمٰی میں طلبی

سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کو 25 مئی کو عدالت کے سامنے پیش ہوکر قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کے خلاف عدالتی فیصلے پراب تک عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے 17 رکنی فل بنچ نے گذشتہ سال16 دسمبر کو قومی مصالحتی آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قراردے دیا تھا اور این آراوسے مستفید ہونے والے آٹھ ہزار سے زائد افراد جن میں صدر آصف علی زرداری بھی شامل تھے کے خلاف ختم کیے جانے والے بدعنوانی کے مقدمات کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا تھا ۔

لیکن عدالت عظمٰی کے حکم کے باوجود سوئیٹزرلینڈ میں صدر زرداری کے خلاف قائم بدعنوانی کے مقدمات کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے وزرات قانون کی طرف سے تاحال سوئس حکا م کوخط نہیں لکھا گیا ہے۔ مستعفی ہونے و الے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وزیرقانون بابر اعوان نے اُنھیں کہا کہ ”اُن کی لاش پر سے گزر کر“ہی سوئس حکومت کو خط لکھاجاسکتا ہے ۔ بابراعوان نے اپنے اس بیان کی تردید نہیں کی ہے۔ وفاقی وزیر بابر اعوان اور حکومت کے دیگر قانونی مشیروں کا موقف ہے آئین کی شق 248 کے تحت ملک کے صدر کے خلاف کسی طرح کی عدالتی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

رواں ہفتے سیکرٹری قانون جسٹس ریٹائرڈ عاقل مرزا نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن اُنھوں نے اس کی وجہ خرابی صحت بتائی ہے تاہم مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق عاقل مرزا کے استعفے کی و جہ بھی بابر اعوان ہی ہیں ۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کور ٹ کے پانچ رکنی بنچ نے جمعہ کو مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے پر پیش رفت کے حوالے سے وزیر قانون کو طلب کرکے اُن سے اس بارے میں براہ راست پوچھا جائے ۔

اٹھارویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق طریقہ کارسمیت دیگر کئی شقوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے بھی چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کافل بنچ تشکیل دے دیا ہے جو رواں ماہ کی 24 تاریخ کو مقدمے کی سماعت کرے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ این آراو پر عمل درآمد نہ ہونے کے حوالے سے وزیر قانون کی عدالت میں طلبی اور پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی اٹھارویں ترمیم کی سماعت کے لیے فل کورٹ بنچ کی تشکیل حکومت اور عدلیہ میں تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG