رسائی کے لنکس

ڈسکہ میں ہلاک ہونے والے وکلاء کی غائبانہ نماز جنازہ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں منگل کو ادا کی گئی جس کے بعد ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ میں ایک پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے مقامی بار ایسوسی ایشن کے صدر سمیت دو وکلاء کی ہلاکت کے خلاف منگل کو دوسرے روز بھی پنجاب کے مختلف اضلاع میں وکیلوں کا احتجاج جاری رہا۔

وکلاء کی ایک بڑی نمائندہ تنظیم ’پنجاب بار کونسل‘ نے ساتھی وکیلوں کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں منگل کو عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج کی کال دی تھی۔

ڈسکہ میں ہلاک ہونے والے وکلاء کی غائبانہ نماز جنازہ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں منگل کو ادا کی گئی جس کے بعد ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

احتجاج میں شامل وکلاء نے پنجاب اسمبلی کا رخ کیا اور عمارت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کے باہر لگے شامیانے میں آگ لگا دی جب کہ اُنھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

لاہور بار کی طرف سے ڈسکہ میں وکلاء کی ہلاکت کے خلاف تین روز سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان ایام کے دوران دن کو 11 بجے کے بعد عدالتی کارروائی کا علامتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔

یہ واقعہ پیر کو اُس وقت پیش آیا جب ڈسکہ میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے جانے والے وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران ایک پولیس انسپکٹر کی مبینہ فائرنگ سے ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے صدر رانا خالد عباس اور وکیل عرفان چوہان ہلاک اور دیگر تین وکلا شدید زخمی ہو گئے۔

صوبائی حکومت ڈسکہ میں دو وکلاء کی ہلاکت کی تحقیقات ’جوڈیشل کمشین‘ سے کرانے کا اعلان کر چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وکلاء کے احتجاج میں بظاہر کوئی کمی نہیں آئی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے وکلاء کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG