رسائی کے لنکس

ڈیمنشیا کے موضوع کے حوالے سے ہونے والی ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ذہین عورت سے شادی کرنے والے مردوں میں نسیان یا ڈیمنشیا بیماری ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

ذہنی صحت کے سائنس دانوں نے تجویز کیا ہے کہ ایک آدمی جو لمبی زندگی جینا چاہتا ہے اسے ایک ذہین عورت سے شادی کرنی چاہیئے۔

ڈیمنشیا کے موضوع کے حوالے سے ہونے والی ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ذہین عورت سے شادی کرنے والے مردوں میں نسیان یا ڈیمنشیا بیماری ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

اپنے مطالعاتی جائزے میں ماہرین نے اس بیماری کی وجوہات اور اس سے نمٹنے کے طریقوں پر نظر ڈالی ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ڈیمنشیا یا بھولنے کی بیماری سے بچنے کے لیے ایک ذہین بیوی کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔

یہ بیماری دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد پر اثر انداز ہوتی ہے اور ہر سال 77 لاکھ نئے کیسسز آتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی اور سماجی طور پر فعال رہنے سے ذہنی صحت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

ایبرڈین یونیورسٹی میں کالج آف میڈیسن اینڈ لائف سائنس سے وابستہ ذہنی صحت کے پروفیسر لارنس وہیلے نے کہا کہ دماغ کے اسکین کے نتیجے میں جن افراد میں یہ بیماری ظاہر ہوئی تھی، ان میں اس بیماری کی کوئی علامات نہیں تھیں اور یہ تمام افراد انتہائی ذہین تھے اور اعلیٰ سطح کی ملازمتوں پر زیادہ کما رہے تھے۔

'آکسفورڈ لیٹریری فیسٹیول' کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحقیق کے سربراہ پروفیسر لارنس اور دیگر محققین نے مطالعوں کی ایک سیریز کے ذریعے یہ طے کیا ہے کہ دانشوارانہ ترغیب کے ساتھ دماغ کو فعال رکھتے ہوئے بھلکڑ پن کی بیماری کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی کے کئی مطالعوں میں پہیلیوں، مطالعوں اور عجائب گھر کی سیر جیسی سرگرمیوں کے فوائد پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی تاہم پروفیسر لارنس وہیلے نے کہا کہ ایک ذہین بیوی جو اپنے شوہر کے دماغ کو دلچسپ گفتگو اور چیلنجنگ مقابلوں کے ساتھ متحرک رکھتی ہے وہ انھیں یاداشت کے نقصان یا ڈیمنشیا سے بچنے میں مدد کر رہی ہے۔

آکسفورڈ ادبی فیسٹیول میں 'ڈیمنشیا : ’ہم اپنے دماغ کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں‘ کے عنوان سے ہونے والے ایک کانفرنس میں پروفیسر لارنس نے اولین دریافت کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ لڑکوں کو کبھی یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اگر وہ لمبی زندگی جینا چاہتے ہیں تو انھیں کیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایک چیز جو انھیں کرنی چاہیئے وہ ذہین عورت سے شادی ہے کیونکہ اس بیماری کے خلاف ذہانت سے اچھا کوئی بفر (رکاوٹ) نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک شخص کے ماحول کا ڈیمنشیا ہونے کے امکانات پر انتہائی اثرات ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر لارنس کے بیان کے مطابق ابتدائی زندگی میں خاندان کے کسی رکن کی موت کے افسوسناک نقصان کا ایک بالغ شخص کی ذہنی صحت پر انتہائی گہرا اثر ہے جسیا کہ دیگر مطالعوں میں ظاہر ہوا ہے کہ پانچ برس کی عمر سے پہلے ماں کی موت بچے کی بعد کی زندگی میں اس بیماری کے لیے ایک بہت اہم خطرے کا عنصر ہے۔

ڈیمنشیا کی کئی اقسام ہیں اور یہ تمام بیماریاں روزمرہ کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدتر ہوتی جاتی ہیں جبکہ الزائمر کی بیماری بھی ڈیمنشیا کی ایک قسم ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا علامات کے مجموعہ کا نام ہے جس میں یاداشت کی کمی، منصوبہ بندی میں مشکلات، مسئلہ حل کرنے یا زبان اور بعض اوقات برتاؤ کی تبدیلی شامل ہے۔

تاہم اس بیماری میں مبتلا ہونا عمر بڑھنے کا ایک قدرتی عمل نہیں ہے بلکہ یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب دماغ کسی بیماری سے متاثر ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG