رسائی کے لنکس

امریکہ میں ووٹ دہندگان کا غیر جانبدار ادارہ، ’لیگ آف وومن ووٹرز‘

  • نیلوفر مغل

’لیگ آف وومن ووٹرز‘ ایک غیر جانبدار سیاسی ادارہ ہے جو گذشتہ 96 برسوں سے ہر عمر، ہر رنگ و نسل اور قومیت کے ووٹرز کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کے لئے سرگرم ہے

یہ جمعرات کی ایک شام ہے۔ ورجینیا کے علاقے فیرفیکس کے ایک مقامی سکول میں ووٹر رجسٹریشن کی ایک تقریب جاری ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ووٹ درج کرانے بلکہ ووٹ ڈالنے سے متعلق دیگر معلومات بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس تقریب کو ’لیگ آف وومن ووٹرز‘ نے آرگنائز کیا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب اب سر پر ہے۔لوگ آن لائن یا خود جا کر اپنا ووٹ درج کرانے میں مصروف ہیں۔ یہاں پر ایسے سرگرم ادارے بھی ہیں جو لوگوں کی نہ صرف ووٹنگ رجسٹریشن میں مدد کرتے ہیں، بلکہ انہیں ووٹ ڈالنے کے لئے متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی امور سے متعلق معلومات بھی دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ سیاست سے نالاں رہنے کی وجہ سے اپنا یہ حق استعمال کرنے سے کتراتے ہیں۔ یا پھر انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ عوام کو درپیش اہم مسائل کیا ہیں۔ ’لیگ آف وومن ووٹرز‘ ایسا ہی ایک ادارہ ہے جو لوگوں کو یہ معلومات دیتا ہے۔

’لیگ آف وومن ووٹرز‘ کی وینڈٰی فاکس کا کہنا ہے کہ ہم اس طرح کے ایونٹ میں نہ صرف خواتین کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کے لئے متحرک کرتے ہیں، بلکہ تمام ووٹرز کو mobilize کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ رجسٹر ہوں۔ ان میں انتخابات سے متعلق شعور بیدار ہو؛ انہیں امیدواروں کے بارے میں علم ہونا چاہئے اور یہ کہ ان کا مؤقف کیا ہے اور وہ کس چیز کی مخالفت کرتے ہیں۔ لوگوں کو ووٹنگ مراحل کے علاوہ اس بات کا بھی علم ہونا چاہیئے کہ ایشوز کیا ہیں؟ مسائل کیا ہیں؟ انہیں ان سب چیزوں کا علم ہونا چاہیئے جن کے لئے وہ ووٹ ڈالیں گے۔ لیکن، ہم کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے‘‘۔

اگرچہ مصروفیت کی وجہ سے اب زیادہ تر امریکی آن لائن ہی رجسٹریشن کراتے ہیں؛ لیکن، ’لیگ آف وومن ووٹرز‘ تمام کاؤنٹیز میں لوگوں کو متحرک کرنے کے لئے بہت سی تقاریب کا انعقاد کرتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔

اس تقریب میں آنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پلیٹ فارم فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور بہت سے ایشوز کا پتا چلتا ہے۔ ’لیگ آف وومن ووٹرز‘ اس وقت قائم کی گئی جب امریکی خواتین کی اپنے ووٹ کے حق کیلیے بہتر سالہ جدوجہد اپنی منزل کے قریب پہنچ چکی تھی۔

اس ادارے کی انتظامی سربراہ، بیتھ تھیوڈان کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ 1920ء میں قائم کیا گیا، جب انیسویں ترمیم منظور ہوئی اور خواتین کو 72 سالوں کی جدوجہد کے بعد ووٹ ڈالنے کا اختیار ملا۔ لیکن، انہیں اس بارے میں شعور دینے اور انہیں متحرک کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم درکار تھا، جو ’لیگ آف وومن ووٹرز‘ کی صورت سامنے آیا، تاکہ ایک خاتون بھی اپنے والد، بھائی اور شوہر کی طرح ووٹ ڈال سکے۔

لیکن، 1970ء میں اس ادارے نے مردوں کو بھی رکنیت دینا شروع کی، کیونکہ ادارے کے مطابق، تمام ووٹرز کو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔

’لیگ آف وومن ووٹرز‘ کی شریک صدر، پیگی نائٹ کہتی ہیں کہ ووٹ ڈالنے کا حق سب کو ہے اور یہ بے حد ضروری بھی ہے، کیونکہ ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ووٹ ڈالنا ہی نہیں چاہتے۔ لیکن، ووٹ نہ ڈالنا اس کا حل نہیں۔ یہ ایک جمہوریت کے لئے اچھا نہیں۔

منتظمین کا کہنا کہ وہ کسی بھی صدارتی امیدوار کی نہ ہی حمایت اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن، وہ ان ہر طرح کے ووٹرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے لئے نکلیں۔

XS
SM
MD
LG