رسائی کے لنکس

کلنٹن کی ہیک شدہ اِی میل، ’خلیج کے اتحادیوں کی داعش کی حمایت‘


فائل

فائل

اِس اِی میل کےایک حصے میں لکھا ہے:’’ہمیں اپنی سفارتی اور زیادہ روایتی انٹیلی جنس اثاثوں کو کام میں لانا ہوگا، تاکہ قطر اور سعودی عرب کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا جاسکے، جو خطے میں داعش اور دیگر قدامت پسند سنی گروپوں کو پوشیدہ مالی اور نقل و حمل کی حمایت فراہم کر رہے ہیں‘‘

خارجہ پالیسی کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ پریشان ہیں کہ ہیک ہونے والی ایک اِی میل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے سعودی اور قطری حکومت پر داعش کے انتہا پسندوں کو ٹھہرنے اور مالی اعانت کی فراہمی کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ اُن ہزاروں میں سے ایک اِی میل ہے جسے کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیرمین، جان پڈیسٹا کی ذاتی اِی میل سے چرایا گیا اور وکی لیکس ویب سائٹ نے جاری کیا۔
یہ تفصیلی پیغام 17 اگست، 2014ء کو تحریر کیا گیا، اور اس اِی میل ایڈریس سے جاری ہوا (hrod17@clintonemail.com)یہ اِی میل اِس پیغام سے شروع ہوتا ہے کہ ’’ذرائع میں مغربی انٹیلی جنس، امریکی انٹیلی جنس اور خطے کے ذرائع شامل ہیں‘‘؛ اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی سے نبردآزما کیسے ہوا جائے، اس بات پر وسیع تر پالیسی گفتگو شامل ہے۔

ایک حصے میں لکھا ہے کہ ’’ہمیں اپنی سفارتی اور زیادہ روایتی انٹیلی جنس اثاثوں کو کام میں لانا ہوگا، تاکہ قطر اور سعودی عرب کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا جاسکے، جو خطے میں داعش اور دیگر قدامت پسند سنی گروپوں کو پوشیدہ مالی اور نقل و حمل کی حمایت فراہم کر رہے ہیں‘‘۔

کلنٹن کی صدارتی انتخابی مہم نے ’وائس آف امریکہ‘ کی اُس درخواست کا جواب نہیں دیا جن میں اُن سےوکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ اِی میلز کی تصدیق کے لیے کہا گیا تھا۔

ایسے میں جب طویل مدت سے سعودی عرب اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں یا حکومتوں سے قریب افراد کی جانب سے خطے کے شدت پسند گروپوں کو مالی اعانت کے شبہے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، یہ الزام اُس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جو اوباما انتظامیہ کھل کر بیان کرتی رہی ہے۔

تاہم، دہشت گردی کے ماہرین کے لیے یہ بات بھی حیران کُن ہے، جن میں سے کچھ کا تعلق امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی سے ہے، جو کہتے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی داعش کی حمایت کا سعودی یا قطر پر براہ راست ثبوت نہیں دیکھا۔

شام میں سابق امریکی سفیر، رابرٹ فورڈ نے بدھ کو ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’(اپنی میعاد کے دوران) میں نے کبھی امریکی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں دیکھی جس میں کہا گیا ہو کہ سعودی حکومت کسی دہشت گرد گروپ کو کسی قسم کی مادی اعانت، یا مالی اعانت فراہم کرتی ہے‘‘۔

سابق سفیر نے کہا کہ ’’تاہم، سعودی نجی افراد کے بارے میں کافی اطلاعات ہیں، جن میں خیراتی ادارے، خاص طور پر کاروباری افراد، ساتھ ہی ساتھ خلیج کے دیگر لوگ، نجی شہری شامل ہیں، جنھوں نے مدد فراہم کی ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG