رسائی کے لنکس

خاتون میزبان نے کہا ہے کہ 'یہ میرا فرض تھا کہ میں اپنے لیے بولوں۔ اگر میں انھیں جواب نا دیتی، تو شاید مجھے اپنے آپ سے نفرت ہوجاتی اور میں خود سے نفرت نہیں کرنا چاہتی تھی‘

لبنانی ٹیلی وژن کی میزبان نےایک انٹرویو کےدوران، صنفی امتیاز برتنے پر ایک عالم دین کا مائیک بند کر دیا تھا۔ لیکن، ان کا یہ اقدام لبنان اور دنیا بھر میں قابل تحسین سمجھا گیا ہے، جس پر سماجی میڈیا کے صارفین کی جانب سے اُن کی خوب تعریف کی جا رہی ہے۔

’الجدید ٹی وی‘ پر نشر ہونے والے پروگرام کے دوران میزبان، ریما کرکئی اور ان کے مہمان، شیخ ہانی امام الصبائی کے درمیان اس وقت تکرار بڑھ گئی جب خاتون میزبان نے انھیں موضوع کی مناسبت سے گفتگو کرنے کے لیے کہا۔ لیکن، امام صاحب کو یہ بات مناسب نہیں لگی اور وہ اشتعال میں آگئے اور میزبان کو (شٹ اپ) منہ بند رکھنے کے لیےکہا؛ اور یہ بھی کہا کہ یہ ان کی شان کے خلاف ہے کہ تم (عورت) ان کا انٹرویو کر رہی ہے۔

اس پر میزبان چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں، اور ہاتھ کے اشارے سے رکنے کے لیے کہتی ہے: ’ایک سکینڈ۔ بات ختم نہیں ہوئی۔ یا تو یہاں باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا یا پھر گفتگو کا سلسلہ یہیں ختم کیا جاتا ہے۔'

آن لائن حامیوں کی جانب سے خواتین کے حقوق کے لیے کھڑا ہونے پر، کرکئی کو سراہا گیا ہے۔ لیکن، روزنامہ ’گارڈین‘ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کرکئی نے کہا کہ وہ کوئی ہیرو نہیں ہیں۔ بلکہ، 'یہ ان کی عزت نفس کا سوال تھا؟'۔

خاتون میزبان کرکئی نے کہا کہ 'یہ میرا فرض تھا کہ میں اپنے لیے بولوں۔ اگر میں انھیں جواب نا دیتی، تو شاید مجھے اپنے آپ سے نفرت ہوجاتی اور میں خود سے نفرت نہیں کرنا چاہتی تھی۔'

'جب انھوں نے مجھے شٹ اپ کہا تو اس کے بعد میرے لیے ممکن نہیں تھا کہ میں خاموش رہوں؛ کیونکہ، اگر میں ایسا کرتی تو یہ میری توہین ہوتی اور میں اپنا سب کچھ کھو دیتی۔'

ریما کرکئی کہتی ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ 'وہ موجودہ موضوع پر بات کریں اس طرح پروگرام کا وقت برباد نہیں ہوگا۔ لیکن، وہ اس بات پر ناراض ہوگئے۔ اور یہ سمجھے کہ شاید میں ان کی گفتگو کو کاٹ رہی ہوں۔ اس کے بعد، میں نے انھیں پرسکون رکھنے کی کوشش بھی کی، اور کہا کہ ہم یہاں آپ کی موجودگی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ لیکن، یہ اب آپ پر منحصر ہے۔'

لیکن، بقول اُن کے، ’انھوں نے اُسی ہتک آمیز انداز میں بات کرنے کا فیصلہ کیا؛ اور مجبوراً ہمیں ان سے گفتگو کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔'

یوٹیوب پر اتوار کو پوسٹ کی جانے والی اس ویڈیو کلپ کو اب تک 2.3ملین لوگوں نے دیکھا ہے، جس میں لبنانی میزبان نے لندن سے تعلق رکھنے والے عالم دین، ہانی الصبائی سے داعش سے متعلق ایک سوال کیا تھا۔ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرکئی مہمان کو موضوع تک محدود رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، جس پر عالم صاحب ناراض ہو جاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ 'برائے مہربانی مجھے جواب دینے دیا جائے جیسا کہ میں چاہتا ہوں۔ میں آپ کی مرضی کا جواب نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ میرے خیالات ہیں جن پر میں یقین رکھتا ہوں‘۔

اس پر میزبان کہتی ہے کہ اس اسٹوڈیو میں شو میں چلا رہی ہوں۔ لیکن مہمان اس جواب پر ناراض ہوجاتے ہیں اور انھیں منہ بند رکھنے کے لیے کہتے ہیں۔

میزبان کرکئی مہمان کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ کیسے آپ جیسا معزز شیخ ایک خاتون کو شٹ اپ کہہ سکتا ہے۔ اس کے بعد، شیخ ہانی کا مائیک بند کر دیا جاتا ہے،جب کہ پروگرام چلتا رہتا ہے۔

عالم دین، ہانی امام الصبائی نے اس معاملے پر ٹوئٹر کے صفحے پر ایک خط شائع کیا ہے جس میں انھوں نے لبنانی ٹیلی وژن ’الجدید‘ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل متعصب ہے جس نے انھیں بنیاد پرست اور القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے دوست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG