رسائی کے لنکس

لبنان کے سابق وزیر خزانہ محمد شطح ایک اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ اُن کی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا، دھماکے سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مرکز میں جمعہ کو ایک طاقتور بم دھماکے میں ملک کے سابق وزیر خزانہ محمد شطح سمیت کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

محمد شطح ایک اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ اُن کی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق یہ دھماکا بیروت میں سرکاری عمارتوں سے کچھ ہی فاصلے پر ہوا اور اطلاعات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس بھی اس کے قریب ہی واقع ہے۔

محمد شطح سابق وزیراعظم سعدالحریری کے قریبی ساتھی اور ملک میں حزب مخالف کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما تھے۔ وہ واشنگٹن میں لبنان کے سفیر بھی رہ چکے تھے۔

اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

بیروت میں ہونے والے اس بم دھماکے سے کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

دھماکے کے فوراً بعد ٹیلی ویژن چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں بم دھماکے کے مقام سے دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا اور خوف و ہراس کے باعث لوگ ادھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔

پڑوسی ملک شام میں لڑائی کے بعد سے لبنان میں گزشتہ مہینوں میں کئی بم دھماکے ہوئے۔

62 سالہ شطح کا شمار شام کے صدر بشارالاسد کے ناقدین اور مخالفین میں ہوتا تھا۔ بم دھماکے میں اپنی ہلاکت سے صرف ایک گھنٹہ قبل ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ پر کڑی تنقید کی تھی۔

باور کی جاتا ہے کہ حزب اللہ شام میں جاری خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کی حامی فورسز کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔

بیروت میں یہ واقعہ جس جگہ پیش آیا اس سے کچھ ہی دور 2005ء میں سابق وزیراعظم اور سعد حریری کے والد رفیق حریری کو بھی ایک ٹرک بم حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ تحقیقات میں بظاہر شام اور حزب اللہ پر اس ٹرک حملے کا الزام عائد کیا گیا تاہم دونوں نے اسے مسترد کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG