رسائی کے لنکس

لبنان کی جانب سے شامی مہاجرین کے لیے ویزے کی پابندی کے بعد شام میں بسنے والے ان 70 لاکھ سے زائد شامیوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے، جو جنگ سے متاثر ہوکر اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور پناہ کی تلاش میں ہیں

لبنان داخل ہونے کے خواہشمند شامی مہاجرین پر ویزا کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل، شامی مہاجرین کو لبنان داخل ہونے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں تھی۔ لبنان حکومت کی جانب سے یہ اقدام اپنے ملک میں شامی مہاجرین کی بڑی تعداد میں ہجرت کے سلسلے کو روکنے کی ایک کاوش ہے۔

لبنان کی جانب سے ان نئے اقدامات کی وجہ سے اب شام سے لبنان جانے والوں کا ویزا حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ لبنان میں پہلے ہی 10 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین آباد ہیں۔

لبنانی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا اعلان حال ہی میں اس اعادے کے ساتھ کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کو بند نہیں کیا جائے گا۔

مقامی میڈیا کو ایک بیان دیتے ہوئے لبنان کے وزیر راشد دیربس کا کہنا تھا کہ شامی مہاجرین کے لیے ویزے کی نئی پالیسی کی وجہ سے لبنان میں آباد مہاجرین کو ملک سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف شامی حکومت کی جانب سے لبنان کے اس فیصلے پر مثبت رد ِعمل سامنے آیا ہے اور شام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات میں فروغ جاری رہے گا۔

مگر لبنان کی جانب سے شامی مہاجرین کے لیے ویزے کی پابندی کے بعد شام میں بسنے والے ان 70 لاکھ سے زائد شامیوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے جو جنگ سے متاثر ہوئے ہیں، اپنے گھر سے در بدر ہو چکے ہیں اور تحفظ کی تلاش میں ہیں۔

اقوام ِمتحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے ترجمان رون ریڈمنڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت لبنان پر شامی مہاجرین کا بوجھ پڑا ہوا ہے، جس کی اپنی آبادی 50 لاکھ سے زائد ہے اور یہ کہ ہر ملک کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شامی مہاجرین کے حوالے سے عالمی برادری کا رویہ افسوسناک ہے اور لبنان کی جانب سے شامی مہاجرین کی مدد کے سلسلے میں کی گئی اپیل کا مثبت رد ِعمل سامنے نہیں آیا۔

XS
SM
MD
LG