رسائی کے لنکس

لبنان عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے اقدامات کرے: اقوام متحدہ


بان کی مون

بان کی مون

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے یہ بیان لبنانی وزیراعظم تمام سلام کی طرف سے 24 رکنی کابینہ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سامنے آیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ سلامتی، اقتصادی اور انسانی ہمدردی سے متعلق پائی جانے والی صورتحال کے پیش نظر لبنان کی حکومت کو بغیر وقت ضائع کیے اقدامات کرنے چاہیئں۔

بان کی مون کی جانب سے یہ بیان لبنانی وزیراعظم تمام سلام کی طرف سے 24 رکنی کابینہ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سامنے آیا۔

شام میں خانہ جنگی ہمسایہ ملک لبنان تک نا صرف پھیلی بلکہ اس سے وہاں کی آبادی بھی تقسیم کا شکار ہوئی۔

وزیراعظم سلام کا کہنا تھا کہ نئی کابینہ کو دس لاکھ شام کے پناہ گزینوں کی وجہ سے پیدا ہوئے سنگین سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لبنان کی اپنی آبادی 40 لاکھ ہے۔

ہفتے کو وزیراعظم نے نئی کابینہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایک متوازن حکومت بنانے کی کوشش کی جس میں مذہبی یا فرقہ واریت کی بنیادوں پر حصہ دیے بغیر ہی تمام گروہوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔

کابینہ کے فیصلے کے بعد بہت سارے لبنانی عوام نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ گزشتہ کئی مہینوں سے نگراں حکومت ہی ملکی امور چلارہی تھی۔

پارلیمان نے سنی قانون ساز کو گزشتہ اپریل میں وزیراعظم مقرر کیا لیکن شیعہ گروہ حزب اللہ اور سنی اتحاد میں اختلافات نے سلام کو حکومت بنانے سے روکے رکھا۔

سنی اتحاد کی طرف سے وزیر داخلہ کے عہدے سے دست برداری کے بعد دونوں گروہوں میں حکومت سازی کا معاہدے طے پایا۔
XS
SM
MD
LG