رسائی کے لنکس

’دلیپ کمار کی حالت بہتر ہے اور انہوں نے اسپتال میں موجود رشتے داروں سے باتیں بھی کیں ہیں‘: سائرہ بانو

کراچی ۔۔۔ پوری دنیا میں پھیلے ہندی سینما کے کروڑوں شائقین کے دلوں پر کئی دہائیوں سے راج کرنے والے سینئر اداکار دلیپ کماران دنوں زیرعلاج ہیں۔ تاہم، اُن کی حالت اب مستحکم ہے۔ نوے سالہ دلیپ کمار کی طبیعت گذشتہ اتوار کی رات اچانک خراب ہوگئی تھی جس کی وجہ سے انہیں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق دلیپ کمار کی حالت تسلی بخش قرار ہے۔ تاہم، وہ ابھی مزید کچھ دن اسپتال میں ہی رہیں گے۔

دلیپ کمار کی اہلیہ اداکارہ سائرہ بانو نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ دلیپ کمار کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دلیپ صاحب کو 13 ستمبر کو وائرل بخار ہوا تھا جس کے بعد سے وہ بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ اس لئے، انہیں اسپتال داخل کرایا گیا۔ دلیپ کمار کا 14 سال پہلے بائی پاس بھی ہوچکا ہے۔

سائرہ بانو نے بتایا کہ دلیپ کمار کی حالت بہتر ہے اور انہوں نے اسپتال میں موجود رشتے داروں سے باتیں بھی کیں۔ ہم سب ہی ان کی مکمل صحت یابی کی دعائیں کر رہے ہیں۔

دلیپ کمار: کئی عشروں کا فنکار
دلیپ کمار ایک دو عشرے کا نہیں چھ عشروں کا فنکار ہے۔ ان کا اصل نام یوسف خان اور فلمی نام دلیپ کمار ہے۔ وہ 11 دسمبر1922ء کو پاکستان کے شہر پشاور میں واقع محلہ خدادامیں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام لالہ غلام سرور اور والدہ کا نام عائشہ بیگم تھا۔

غلام سرور پھلو ں کا کاروبار کرتے تھے۔ نو عمری میں دلیپ کمار نے اس کاروبار میں اپنے والد کا ہاتھ بٹایا۔ تاہم، ان کا اصل شوق اداکاری تھا جو انہیں 40کی دہائی میں ممبئی لے آیا جہاں سنہ 1944ءمیں انہوں نے چھ دہائیوں پر پھیلے فلمی سفر کاآغاز کیا فلم ’جوار بھاٹا‘ سے۔

ساٹھ سے زائد فلموں میں کام کرنے والے دلیپ کمار کی اکثر فلموں کو ہندی سینما میں کلاسک کا درجہ حاصل ہوا۔ وہ انسانی جذبات خاص کر غمناک اور افسردہ کردینے والے تاثرات اتنے حقیقی اور پراثر انداز میں پیش کرتے تھے کہ دیکھنے والوں کے لئے اپنے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہوجاتا تھا۔ اسی لئے دلیپ صاحب کو ’ٹریجڈی کنگ‘ یعنی ’شہنشاہ جذبات‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔

بلاشبہ سنہ 50 اور60 کی دہائیاں دلیپ کمار کی تھیں۔ اس عرصے میں انہوں نے مدھومتی، گنگا جمنا، مغل اعظم اور ایسی ہی کئی فلمیں انڈسٹری کو دیں جنھوں نے مقبولیت اورشہرت کے نئے معیار قائم کئے اور کلاسک کا درجہ پایا۔

اپنے کیرئیر میں دلیپ کمارنے خود کو ورسٹائل اداکار ثابت کیا۔ 1949ءمیں ریلیز ہونے والی رومینٹک فلم’ انداز‘ ہو،1952ءمیں ’آن‘ کا خوبرو ہیرو مگر ناکام عاشق ’دیوداس‘ (1955) ہو یا اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ’آزاد‘ کا مزاحیہ کردار ہو ،دلیپ صاحب نے ہرکردار کو اپنی لازوال اداکاری سے امر کر دیا۔

سنہ 1960ء میں ریلیز ہونے والی تاریخی فلم ’مغل اعظم‘ نے تو دلیپ کمار کو فن کی دنیا میں ہمیشہ کے لئے امر کردیا ہے جبکہ انہوں نے ”ملن، شہید، ندیاکے پار، جوگن، بابل، آرزو، ترانہ، ہلچل، دیدار، سنگدل، داغ، شکست، فٹ پاتھ،امر،اڑن کٹھولا، انسانیت، نیادور، پیغام، کوہ نور“ اور” گنگا جمنا“ جیسی لازوال فلمیں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور ’انسٹی ٹیو یشن ‘ کی حیثیت پائی۔

سنہ 1976میں دلیپ کمار نے فلم انڈسٹری سے بریک لیا اور 1981میں فلم ”کرانتی“ میں کیریکٹر ایکٹر کے طور پر دوبارہ فلم نگری جوائن کی۔پھر شکتی(1982)، کرما(1986)اور سوداگر(1991) میں کام کیا۔ ان کی آخری فلم” قلعہ“ تھی جو سن 1998میں ریلیز ہوئی تھی۔

آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار ستیہ جیت رائے نے دلیپ کمار کو ’مکمل میتھڈ ایکٹر‘ قراردیا تھا جبکہ بالی وڈ کے میگا اسٹار امیتابھ بچن کا کہنا ہے کہ دلیپ کمار عظیم اداکار ہیں۔

اداکاری کو حقیقت کا روپ دینے کا صلہ دلیپ کمار کو کئی ایوارڈز کی شکل میں ملا۔ بہترین اداکار کی کیٹیگری میں انہوں نے آٹھ فلم فیئر ایوارڈز جیتے۔ سنہ 1991ءمیں انہیں بھارتی حکومت نے پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا جبکہ 1994میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ملا۔ حکومت پاکستان نے دلیپ کمار کو 1998میں نشان امتیاز سے نوازا۔ وہ 2000سے 2006تک راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔
XS
SM
MD
LG