رسائی کے لنکس

معروف براڈکاسٹ صحافی مورلی سیفر انتقال کر گئے


مورلی سیفر (انتہائی بائیں) ’60 منٹس‘ کی ٹیم کے ساتھ 1993 میں۔ فائل فوٹو

مورلی سیفر (انتہائی بائیں) ’60 منٹس‘ کی ٹیم کے ساتھ 1993 میں۔ فائل فوٹو

ساٹھ سال ٹیلی وژن پر گزارنے کے بعد بھی وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ لکھے ہوئے الفاظ اور اچھی آواز اچھا نظر آنے سے زیادہ اہم ہے۔

امریکہ کے چینل’سی بی ایس نیوز‘ سے 52 سال سے وابستہ براڈ کاسٹ صحافی مورلی سیفر جمعرات کو انتقال کر گئے۔ اپنی وفات سے چار دن قبل انہوں نے اپنی آخری براڈ کاسٹ کی تھی۔

سیفر نے گزشتہ ہفتے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا اور ان کی عمر 84 برس تھی۔ سی بی ایس نے ان کی موت کی وجہ کے بارے میں نہیں بتایا۔

ٹورونٹو میں مقیم مورلی سیفر نے کینیڈا اور برطانیہ کی نیوز ایجنسیوں میں کئی برس کام کرنے کے بعد 1964 میں ’سی بی ایس‘ میں شمولیت اخیتار کی۔

1965 میں ایک ابتدائی رپورٹ میں مورلی سیفر نے امریکی فوجیوں کو کمیونسٹ گوریلوں کی تلاش میں جنوبی ویتنام کے ایک گاؤں میں شہریوں کی جھونپٹریوں کو سگریٹ لائٹر سے آگ لگاتے دکھایا تھا۔

بوڑھے مرد اور عورتیں اپنے گھروں کو نظر آتش ہوتا ہوا دیکھ کر آہ و بکا کرنے لگے جبکہ امریکی فوجیوں نے کوئی جذبہ ظاہر نہیں کیا۔

پینٹاگان اور وائٹ ہاؤس سی بی ایس اور مورلی سیفر کی رپورٹ پر شدید ناراض ہوئے جس نے ع ویتنام جنگ میں امریکہ کی شمولیت کے خلاف وامی رائے عامہ کو ہموار کیا تھا۔

سیفر نے 1970 میں سی بی ایس نیوز میگزین ’60 منٹس‘ میں شمولیت اخیتار کی اور اس سیریز کے کچھ یادگار ترین لمحات ان سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

ان میں ایک قتل کے مقدمے کی رپورٹ بھی شامل تھی جس میں ایک بے گناہ شخص کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم قید کے دوران اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔

انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کے دوران تین پی بوائے اور 12 ایمی ایوارڈ جیتے۔

ساٹھ سال ٹیلی وژن پر گزارنے کے بعد بھی وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ لکھے ہوئے الفاظ اور اچھی آواز اچھا نظر آنے سے زیادہ اہم ہے۔

XS
SM
MD
LG