رسائی کے لنکس

امریکہ: سینئر صحافی ہیلن تھامس کا انتقال


چار اگست، 2009ء کو 'وہائٹ ہائوس' نے ہیلن تھامس کی 89 ویں سال گرہ کا اہتمام کیا جس میں صدر براک اوباما بھی شریک ہوئے۔ اس دن صدر براک اوباما کی بھی 48 ویں سالگرہ تھی۔ (فائل)

ہیلن تھامس لگ بھگ نصف صدی تک مختلف اخبارات کے لیے 'وہائٹ ہائوس' کی نامہ نگار کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہیں

امریکہ کی سینئر اور مسلسل 50 برس تک 'وہائٹ ہائوس' اور امریکی صدور کی سرگرمیاں کور کرنے والی خاتون صحافی ہیلن تھامس انتقال کرگئی ہیں۔ ان کی عمر 92 برس تھی۔

ان کے اہلِ خانہ کے مطابق مس تھامس کا انتقال واشنگٹن میں ان کی رہائش گاہ پر ہفتے کو علی الصباح ہوا۔

ہیلن تھامس ایک بے باک اور کئی اعزازات کی حامل صحافی تھیں جنہوں نے ایک ایسے وقت میں صحافت کا آغاز کیا جب اس شعبے کو مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔

وہ لگ بھگ نصف صدی تک مختلف اخبارات کے لیے 'وہائٹ ہائوس' کی نامہ نگار کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہیں اور اس حیثیت میں انہیں 'وہائٹ ہائوس' اور اس کے مکینوں میں ایک خاص مقام حاصل رہا۔

'وہائٹ ہائوس' کے جس کمرے میں امریکی صدور عموماً پریس کانفرنس کرتے ہیں وہاں نصف صدی تک کرسیوں کی اگلی قطار میں ہیلن تھامس کی نشست مخصوص رہی۔ انہیں ان کے تیکھے اور لگی لپٹی رکھے بغیر کیے جانے والے سوالات اور قائدانہ صلاحیتوں کے باعث 'وہائٹ ہائوس' کور کرنے والے صحافیوں کی 'ڈِین' کہا جاتا تھا۔

ہیلن تھامس ایک ریکارڈ ساز صحافی تھیں۔ انہیں نہ صرف کسی بھی امریکی صدرکا انٹرویو کرنے والی پہلی خاتون صحافی ہونے کا اعزاز حاصل تھا بلکہ انہوں نے صدر جان ایف کینیڈی سے لے کر موجودہ صدر براک اوباما تک تمام صدور کے انٹرویوز بھی کیے تھے۔

وہ 'وہائٹ ہائوس' کور کرنے والے نامہ نگاروں کی انجمن 'وہائٹ ہائوس کرسپانڈنس ایسوسی ایشن' کی صدر منتخب ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہیں 1980ء کی دہائی میں امریکہ کی سیاسی تاریخ کے مشہور اسکینڈل 'واٹر گیٹ' کا پردہ چاک کرنے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔

مس تھامس نے گزشتہ 50 برسوں کے دوران میں نہ صرف تمام امریکی صدور کی 'وہائٹ ہائوس' میں ہونے والی پریس کانفرنسیں کور کیں بلکہ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کےلیے امریکی صدور کے ہمراہ پوری دنیا کا سفر بھی کیا۔

ہیلن تھامس صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورہ چین کے موقع پر ان کے ہمراہ بیجنگ جانے والی کسی بھی اخبار سے منسلک واحد صحافی تھیں۔

مس تھامس کی ایک وجہ شہرت ان کا منہ پھٹ ہونا بھی تھا۔ سنہ 2010 میں انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران میں کہا تھا کہ اسرائیل کو فلسطین سے "دفع" ہوجانا چاہیے۔

اس بیان کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکہ بھر میں ان پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ گوکہ ہیلن نے اپنے اس بیان پر بعد ازاں معذرت کرلی تھی لیکن اس سخت موقف کی پاداش میں انہیں 'وہائٹ ہائوس' میں صحافتی ذمہ داریوں کی مزید انجام دہی سے روک دیا گیا تھا۔

امریکہ کی کئی صحافتی اور سماجی تنظیموں نے ہیلن تھامس کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG