رسائی کے لنکس

پروٹانوں کے ٹکراؤ کا نیا ریکارڈ


پروٹانوں کے ٹکراؤ کا نیا ریکارڈ

پروٹانوں کے ٹکراؤ کا نیا ریکارڈ

یورپی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی ایٹم شکن تنصیب LHC میں تیز رفتار پروٹانوں کے ٹکراؤ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جس سے تقریباً وہی حالات پیدا ہو گئے جو کائنات کی ابتدا یعنی Big Bang کے وقت تھے۔

یورپ کی ایٹمی ریسرچ کے ادارے CERN نے منگل کے روز اس کوشش کو بہت بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سائنس میں نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے۔

CERN کے حکام نے کہا کہ منگل ہی کے روز دو کوششیں ناکام رہیں۔

یہ تنصیب سوئٹزلینڈ اور فرانس کی سرحد پر جنیوا شہر کے قریب زیرِ زمین سرنگ میں واقع ہے۔

CERN کی دس ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی اس تنصیب کو فنی خرابیوں کی وجہ سے ایک سال سے عرصے تک بند رکھنا پڑا تھا۔ ستمبر 2008ء میں اس کے افتتاح کے صرف نو دن بعد میں اس میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جب LHC پوری رفتار سے کام شروع کر دے گا تو وہ اس کے اندر تقریباً روشنی کی رفتار سے ایٹمی ذرات کو آپس میں ٹکرا سکیں گے۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس طرح انہیں کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ ہٹانے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG