رسائی کے لنکس

لیبیا: باغیوں کی مدد کے لیے ڈرون کے استعمال کی اجازت

  • محمد السشنوائی

سینیٹر جان مکین نے لیبیائی باغیوں سے ملاقات کی ہے (فائل فوٹو)

سینیٹر جان مکین نے لیبیائی باغیوں سے ملاقات کی ہے (فائل فوٹو)

صدر اوباما کے اس عہد کے بعد کہ امریکہ لیبیا میں زمینی فوج نہیں بھیجے گا، وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے باغیوں کی مدد کے لیے امریکی فوجی مشیر تعینات کرنے کےخیال کو مسترد کر دیا ہے۔ اب اتحادی ممالک اس بات کا جائزہ لیں گے کہ بغیر پائلٹ والے امریکی ڈرونز کس حد تک موئثر ثابت ہوں گے۔

نیٹو کے ہوائی حملوں کے ایک مہینے بعد امریکہ کے صدر براک اوباما نے لیبیا میں بغیر پائلٹ والے ڈرون جہازوں کے استعمال کا اختیار دے دیا ہے تا کہ جنگ میں باغیوں کی مدد ہو سکے۔ اب تک لیبیا کے باغیوں کو کرنل معمر قذافی کی زیادہ منظم اور بہتر طور سے مسلح افواج کے خلاف محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

جمعے کے روز باغیوں سے بات چیت کے لیے امریکی سینیٹر جان مکین لیبیا پہنچےتھے۔

لیبیا میں فوجی اہداف کے خلاف نیٹو کے ہوائی حملوں کی مہم جاری ہے۔ اب تک مسٹر قذافی ملک کے مشرقی حصے میں ان علاقوں کو واپس لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں جن پر باغیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ لیکن ملک کے مغرب میں مصراتہ کے شہر پر قذافی کی وفا دار فوجیں شدید بمباری کر رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف ہوائی طاقت باغیوں کی مدد کے لیے کافی نہیں۔

شہر کے اندر سے ملنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ واشنگٹن میں بروکنگ انسٹیٹویشن کے فوجی تجزیہ کار مائیکل او ہینلون کہتے ہیں کہ ’’قذافی کی فورسز نے اپنی طاقت مضبوط کر لی ہے اور اس بات کا امکان نظر نہیں آتا کہ انہیں آسانی سے شکست دی جا سکے گی۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ جیت رہی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ سوائے اس کے کہ ہم طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا کوئی موقع تلاش کر سکیں، یہاں طویل عرصے تک تعطل جاری رہے گا‘‘۔

حال ہی میں واشنگٹن میں لیبیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں باغیوں کی مدد کے طریقے معلوم کرنے پر غور کیا گیا ۔ حاضرین میں ابراہیم جبرئیل بھی موجود تھے جو نارتھ امریکن لیبین کانفرنس کے چیئر مین ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں امریکی سپاہیوں یا میرین فوجیوں کی یا فرانسیسی، برطانوی سپاہیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ان لوگوں کے لیے سازو سامان چاہیئے جو لڑ رہے ہیں، تا کہ وہ اپنا کام مکمل کر سکیں‘‘۔

مائیکل او ہینلون اس ٖخیال سے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کا کوئی جواز موجود نہیں ہے کہ لیبیا کے باغیوں کو اس قسم کے ہتھیار فراہم نہ کیے جائیں جو قذافی شکست دینے کے لیے ضروری ہیں۔ ’’انہیں دفاعی ہتھیار چاہئیں جیسے ٹینک شکن ہتھیار جو انتہائی ضروری ہیں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم انہیں یہ ہتھیار فراہم نہ کر سکیں۔ ایک دن آئے گا جب یہ باغی لیبیا کی نئی فوج کا اہم ترین عنصر ہوں گے۔ ہم یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم قذافی کے ساتھ معاملہ نہیں کریں گے۔ تو پھر ہم باغیوں کے ساتھ مل کر کام شروع کیوں نہیں کرتے؟‘‘۔

مائیکل کہتے ہیں کہ باغیوں کی قیادت یعنی ٹرانزیشنل نیشنل کونسل، فرانس ، برطانیہ اور اٹلی کو فوجی مشیر بھیجنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن صرف اس اقدام سے کام نہیں چلے گا۔ ’’میں نے مغربی ملکوں کے مشیروں کے بارے میں اب تک جو کچھ دیکھا ہے، اس سے میری رائے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ان کی تعداد محض چند درجن ہو گی، میدان جنگ میں ان کا کوئی براہ ِ راست رول نہیں ہو گا، اور نہ ہی وہ کوئی ہتھیار فراہم کریں گے‘‘۔

عصام اومیش لیبین امریکن ٹاسک فورس کے چیئر مین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت لیبیا میں سویلین آبادی کی حفاظت کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ ’’ہمیں ہر قسم کے ہتھیار فراہم کرنے چاہئیں اور جو کچھ ہمارے بس میں ہے، کرنا چاہیئے۔ ہمیں بنیادی سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں، تربیت کا انتظام کرنا چاہیئے اور ان لوگوں کو سازو سامان فراہم کرنا چاہیئے جو قذافی کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے، یہ جنگ لڑ رہے ہیں‘‘۔

صدر اوباما کے اس عہد کے بعد کہ امریکہ لیبیا میں زمینی فوج نہیں بھیجے گا، وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے باغیوں کی مدد کے لیے امریکی فوجی مشیر تعینات کرنے کےخیال کو مسترد کر دیا ہے۔ اب اتحادی ممالک اس بات کا جائزہ لیں گے کہ بغیر پائلٹ والے امریکی ڈرونز کس حد تک موئثر ثابت ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG