رسائی کے لنکس

لیبیا: سرکاری فوجوں کے باغیوں پر شدید حملے


لیبیا: سرکاری فوجوں کے باغیوں پر شدید حملے

لیبیا: سرکاری فوجوں کے باغیوں پر شدید حملے

لیبیا کی سرکاری فوورسز مسراتا شہر کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں جو ان مغربی علاقوںمیں شامل ہے جو ابھی تک باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

مغربی نیوز رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ معمرقذافی کی وفادار فورسز نے ہفتے کے روز طرابلس سے لگ بھگ دو سو کلومیٹر پر واقع اس شہر پر فضائی حملے کیے ۔
اسی دوران قذافی کی حامی فورسز ملک کے مشرق میں باغیوں کے مورچوں پر بظاہر فتوحات کی خوشیاں منا رہی ہیں ۔ لیبیا کی حکومت نے ہفتے کو راس لانوف اور بن جواد قصبوں کے دورے کرائے ۔
حکومت کے وفاداروں نے راس لانوف میں مسٹر قذافی کے پوسٹر لہرائے جب کہ نامہ نگاروں نے ان عمارتوں کو دیکھا جنہیں حکومت مخالف تحریریں چھپانے کے لیے تازہ تازہ پینٹ کیا گیا تھا۔

قصبے کے نزدیک تیل کی ایک تنصیب میں اس سے قبل ایک بم دھماکے کے بعد سے مسلسل آگ لگی ہوئی تھی ۔

بن جواد میں نامہ نگاروں نے ایک تباہ شدہ پولیس اسٹیشن اور ایسی دوسری عمارتیں دیکھیں جنہیں بری طرح نقصان پہنچ چکا تھا ،
الجزیرہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس کے ایک کیمرہ مین کو باغیوں کے گڑھ بن غازی کےقریب گھات لگا کر کیےگئے ایک حملےمیں ہلاک کر دیا گیا ۔ ٹیلی وژن نے یہ نہیں بتایا کہ اس حملےمیں کس کا ہاتھ تھا۔

ایک الگ واقعے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کہا کہ کئی ہزار عورتوں نے ہفتے کےر وز بن غازی میں ملک پر نو فلائی زون کی حمایت میں ایک جلوس نکالا ۔

فروری کے وسط میں مسٹر قذافی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے جن میں مظاہرین نے یہ مطالبہ کیاتھا کہ وہ اقتدار سے الگ ہوجائیں ۔ وہ 1969 سے مسلسل حکمران چلے آرہے ہیں۔

معمر قذافی نے لوگوں کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک میں ایک شہید کی موت پسند کریں گے۔

XS
SM
MD
LG