رسائی کے لنکس

لیبیا کے مستقبل پر غور کے لیے عالمی طاقتوں کا اجلاس


لیبیا کے مستقبل پر غور کے لیے عالمی طاقتوں کا اجلاس

لیبیا کے مستقبل پر غور کے لیے عالمی طاقتوں کا اجلاس

اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون کا کہنا ہے کہ لیبیا کو’ بڑے ‘چیلنجز کا سامنا درپیش ہے، جہاں پر امن اورسلامتی اولین ترجیحات میں سے ہیں۔

یہ بات سکریٹری جنرل نے منگل کونیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے آغاز سے قبل، عالمی طاقتوں کی طرف سےلیبیا کے مستقبل کی حکمت عملی پر غور کے حوالے سے اپنے بیان میں کہی۔

یہ اجلاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے لیبیا کی جنرل اسمبلی کی نشست ملک کی قومی عبوری کونسل (این ٹی سی) کو دیے جانے کے حق میں ووٹنگ کے ایک ہفتے سےبھی کم وقت کے اندر ہورہا ہے۔

این ٹی سی چیرمین مصطفیٰ عبد الجلیل نے گروپ کو بتایا کہ بغاوت میں کم از کم 25000افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جِس کے دوران عبوری کونسل نے ملک کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ لیبیا کی حمایت کرتی رہے گی، ایسے میں جب اُس کی نئی حکومت آزاد، جمہوری اور خوشحال مستقبل تعمیر کرنے کےلیے کوشان ہے۔

اپنے تحریر شدہ کلمات میں مسٹر اوباما نے کہا کہ لیبیا کو ایک دوست اور ساتھی میسر ہے جو سلامتی کی کوششوں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی اور جمہوریت کے پُرامن حصول کے لیے لیبیا کے عوام کی اعانت کرتا رہے گا۔

مسٹر اوباما نے مزید کہا کہ لیبیا بین الاقوامی برادری کے لیے ایک’ سبق‘ کا درجہ رکھتا ہے ،کہ بے انصافی کے خلاف متحد ہو کر وہ کیا کچھ حاصل کر سکتی ہے۔
فرانسسی صدر نکولا سارکوزی نے کہا کہ لیبیا کو اونچ نیچ سےسابقہ رہے گا، تاہم کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ماضی پھر لوٹ آئے۔ لیبیا میں فرانس نے نیٹو کے مشن کی قیادت کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG