رسائی کے لنکس

لیبیا: جنگ بندی کے اعلان پر امریکہ کا محتاط ردِعمل

  • ڈیوڈ گولسٹ

لیبیا: جنگ بندی کے اعلان پر امریکہ کا محتاط ردِعمل

لیبیا: جنگ بندی کے اعلان پر امریکہ کا محتاط ردِعمل

ہلری کلنٹن نے جمعے کے روز کہا کہ لیبیا پر مذاکرات کے کسی عمل کی تکمیل معمر قذافی کے اقتدار چھوڑ نے پرمنتج ہوگی

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ حکومتِ لیبیا باغیوں سے جنگ بندی کےاعلان کی پاسداری کرتے ہوئے کوئی واضح اقدام کرے۔

ہلری کلنٹن نے جمعے کے روز کہا کہ لیبیا میں مذاکرات کے کسی عمل کی تکمیل معمر قذافی کے اقتدار چھوڑ نے پرمنتج ہوگی۔ یہ بات ’وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار، ڈیوڈ گولسٹ نے محکمہٴ خارجہ سےاپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

اِس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ہلری کلنٹن نے کہا کہ دنیا لیبیا کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کو صرف لفظوں کے اظہار کی صورت میں تسلیم نہیں کرے گی، اور یہ کہ قذافی کی حکومت کی طرف سےفوجی کارروائیوں کو بند کرنے کے وعدے کو زمینی حقائق کے لحاظ سے پرکھا جائے گا۔
اُن کا یہ بیان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سےجمعرات کی رات گئے لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی کے اختیار دیے جانے کے بعد پہلی بار سامنے آیا ہےجِس میں لیبیا کے شہریوں کوتحفظ فراہم کرنےکی خاطر ’نو فلائی زون‘ کے قیام کی اجازت دینا شامل ہے۔ کلنٹن نے کہا کہ لیبیا کی طرف سے کیے جانے والے اقدام میں بن غازی کے باغیوں کے گڑھ سےحکومتی فورسز کو واپس بلایا جانا شامل ہونا چاہیئے۔

ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ تشدد کا خاتمہ لانا سب سے اولین اہمیت کا حامل اور فوری نوعیت کا اقدام ہوگا۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن، آئرلینڈ کے وزیرِ خارجہ ایمون گلمور کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ اُنھوں نے کہا کہ قذافی کی حامی افواج کی طرف سےکیے جانے والےخونریزی کے واقعات اور اغوا کی رپورٹوں کا حساب لیا جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کےخصوصی ایلچی عبدالللہ خطیب، جو کہ اردن کے سابق وزیرِ خارجہ رہ چکے ہیں، شاید اُن کی معرفت بین الاقوامی برادری اِس بات کی خواہاں ہوگی کہ وہ مسڑ قذافی اور اُن کے مخالفین کےدرمیان ہونے والے مکالمے میں کوئی کردار ادا کریں۔

تاہم، اُنھوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ چار عشروں سے لیبیا پر حکمرانی کرنے والے لیڈر نے اپنی ساکھ کھو دی ہے اور اُنھیں اب اقتدار چھوڑ دینا چاہیئے۔

ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی طرف سے اکثریتی ووٹ دیا جانا اِس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سب سے پہلےتشدد بند ہو؛ اور دوسری بات یہ کہ کسی بھی بات چیت کا حتمی نتیجہ اِس فیصلے پر منتج ہو کہ کرنل قذافی اقتدار چھوڑ دیں۔ تاہم ضرورت اِس بات کی ہے کہ ایک ہی وقت، ایک ہی قدم اُٹھایا جائے۔

کلنٹن مشرقٕ وسطیٰ کے دورے سے ابھی واپس ہوئی ہیں جِس میں مصر اور تیونس کا دورہ شامل تھا۔ اُنھوں نے یمن میں تشدد کے فوری خاتمے کے مطالبے کا اعادہ کیا جہاں جمعے کو مہلک نوعیت کی جھڑپیں واقع ہوئی ہیں، اوربھونچال کےکسی سیاسی حل کےحصول کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔

XS
SM
MD
LG