رسائی کے لنکس

لیبیا کا الجزائر سے قذافی کے اہلِ خانہ کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ


معمر قذافی کی اہلیہ صفیہ (فائل فوٹو)

معمر قذافی کی اہلیہ صفیہ (فائل فوٹو)

لیبیا کی قذافی مخالف حکومت نے الجزائر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معمر قذافی کی اہلیہ اور تین بچوں کو ان کے حوالے کر دے جو پیر کو علی الصباح سرحد پار کرکے الجزائر پہنچ گئے تھے۔

الجزائر کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ معمر قذافی کی اہلیہ صفیہ، بیٹی عائشہ اور دو بیٹے محمد اور حنیبال ایک گاڑی کے ذریعے سرحد پار کرکے اس کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ اعلان کے مطابق قذافی کے داماد بمع اہل خانہ بھی سرحد پار کرنے والوں میں شامل ہیں۔

الجزائر میں حکام نے کہا ہے کہ اُنھوں نے قذافی کے اہلِ خانہ کی آمد سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور لیبیا کی ’عبوری قومی کونسل‘ کو مطلع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ الجزائر لیبیا کا وہ واحد پڑوسی ملک ہے جس نے عبوری کونسل کی سرکاری حیثیت کو تاحال تسلیم نہیں کیا ہے۔ قذافی مخالفین الجزائر کی حکومت پر قذافی کی حمایت کرنے اور ان کے اقتدار کے خلاف لیبیا میں جاری بغاوت کچلنے کے لیے سپاہی فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں تاہم الجزائر ان کی تردید کرتا ہے۔

قذافی مخالفین کی جانب سے گزشتہ ہفتے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے بعد سے معمر قذافی منظرِ عام سے غائب ہیں تاہم ’وہائٹ ہائوس‘ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے پاس اس حوالے سے کوئی اطلاع موجود نہیں کہ قذافی لیبیا سے کہیں اور چلے گئے ہیں۔ لیبیائی افواج اور معاشی حلقوں میں سرگرم رہنے والے معمر قذافی کے دیگر صاحبزادوں کے حوالے سے بھی کوئی اطلاع نہیں کہ وہ کہاں روپوش ہیں۔

دریں اثناء امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ اسے قذافی کی حامی افواج کی جانب سے مصراتہ میں مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد ملے ہیں۔

’فزیشنز فار ہیومن رائٹس‘ نامی تنظیم نے منگل کو جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قذافی کی حامی افواج نے مصراتہ میں قذافی مخالفین کے خلاف کارروائی کے دوران قتل، تشدد، زنا بالجبر اور جبری قید جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری افواج نے فوجی تنصیبات کو نیٹو کے فضائی حملوں سے بچانے کے لیے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور انھیں امدادی سامان حاصل کرنے سے روکا۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اس کے یہ انکشافات ان انٹرویوز پر مشتمل ہیں جو مصراتہ میں ماہِ جون کے دوران کیے گئے۔ تاہم تنظیم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ قذافی حکام کی جانب سے نیٹو اور مخالف افواج پر عائد کردہ الزامات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

رپورٹ میں قذافی مخالفین کی ’عبوری قومی کونسل‘ سے لیبیا میں مزید خون خرابے سے بچنے کے لیے قانون کی حکمرانی کے قیام اور عالمی عدالت برائے جرائم سے مکمل تعاون کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

مذکورہ رپورٹ انسانی حقوق کی ایک اور عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی اس رپورٹ کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قذافی کی حامی افواج نے گزشتہ ہفتے مخالفین کے طرابلس میں داخل ہونے کے بعد دارالحکومت میں مبینہ طور پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے محققین نے طرابلس کے چار مختلف مقامات پر 110 سے زائد لاشوں کی موجودگی ریکارڈ کی ہے جن میں سے بیشتر کو قید کے دوران پھانسی دے کر یا ہاتھ باندھ کر قتل کیا گیا ہے۔

دریں اثناء ’عالمی پروگرام برائے خوراک‘ نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے طرابلس میں لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے 600 ٹن غذائی اشیاء کے علاوہ پانی، ادویات، ایندھن اور دیگر امدادی سامان روانہ کیا جا رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق خوراک لیبیا کی انجمنِ ہلالِ احمر کی جانب سے تقسیم کی جائے گی جو تقریباً 35 ہزار افراد کی ایک ماہ کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

XS
SM
MD
LG