رسائی کے لنکس

طرابلس میں قذافی کی شخصیت کا سحر ٹوٹ گیا

  • جیمز بروک

طرابلس کے گرین اسکوئر، جسے اب شہیدوں کے چوک، کا نام دے دیا گیا ہے، میں معمر قذافی کا پتلہ لڑک رہا ہے۔

طرابلس کے گرین اسکوئر، جسے اب شہیدوں کے چوک، کا نام دے دیا گیا ہے، میں معمر قذافی کا پتلہ لڑک رہا ہے۔

معمر قذافی کہا ں ہے؟ اس کی دوسری بیوی اور دو بیٹے پیر کے روز ہمسایہ ملک الجزائر پہنچ گئے ہیں۔ لیکن لیبیا کے دارالحکومت میں لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ شخص جس نے ان پر 42 سال حکومت کی، اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

42 سال تک گرین اسکوائر وہ اسٹیج تھا جہاں سے معمر قذافی پورے لیبیا میں اپنے دشمنوں کو للکارتا رہتا تھا۔ آج یہ چوک ان لوگوں کی یاد میں جو لیبیا کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی جد و جہد میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے، شہیدوں کا چوک کہلاتا ہے۔

اب یہاں ان پرچموں کی جگہ جن میں بادشاہوں کے بادشاہ کا استقبال کیا جاتا تھا، جگہ جگہ یہ لکھا ہوا ہے کہ "کھیل ختم ہو گیا"۔ شہیدوں کے چوک میں ایک بہت بڑا سائن بورڈ لگا ہوا ہے جس میں قذافی مخالف فورسز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی فتح کا جشن منانے کے لیے ہوائی فائر نہ کریں۔

خلیل سالم میلاد المسرات ایک 56 سالہ سابق فوجی ہیں۔ وہ خالی کارتوس اٹھا کر سڑک صاف کر رہے ہیں۔ قذافی نے ایک زمانے میں چاڈ میں جو جنگ شروع کی تھی، وہ اس میں لڑ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قذافی نے بڑی زور دار تقریریں کی تھیں لیکن وہ بزدل ثابت ہوا۔

’’قذافی نے دنیا سے کہا تھا کہ وہ ایک مجاہد ہے، وہ بدو جنگجو ہے اور جب تک اس کے پاس آخری گولی ہے، وہ جنگ کرتا رہے گا۔ لیکن جب لڑائی اس کے سر پر آن پہنچی، تو وہ فرار ہو گیا۔‘‘

ان کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ قذافی فرار ہو کر صحارا، شاید جنوبی الجزائر پہنچ گیا ہو۔ پیر کی شام، الجزائر کی وزارتِ خارجہ نے اطلاع دی کہ مسٹر قذافی کی دوسری بیوی اور اس کے دو بیٹے الجزائر میں داخل ہو گئے ہیں۔

جب المسرات سے پوچھا گیا کہ کیا قذافی کا گھرانہ کبھی لیبیا میں واپس آئے گا، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’ایسا کبھی نہیں ہو گا۔‘‘

نزدیک ہی ایک سرکاری ملازم، 35 سالہ خالد عابد شہیدوں کے چوک سے ملے ہوئے ایک سایہ دار راستے میں کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں قذافی کا قصہ تمام ہو گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مسٹر قذافی کے گھرانے کے لیبیا واپس آکر حکومت کرنے کے کیا امکانات ہیں تو انھوں نے جواب دیا ’’منفی ایک فیصد بھی نہیں۔‘‘

دس قدم کے فاصلے پر، نیشنل کمرشیل بینک دوبارہ کُھل رہا ہے۔ فرش پر ایک نیا پائیدان پڑا ہے۔ یہ مسٹر قذافی کی وہ تصویر ہے جو کبھی بینک کی لابی کی زینت ہوا کرتی تھی۔

بینک کا ایک کسٹمر تصویر پر تھوکتا ہے۔ ایک اور کسٹمر بظاہر اپنے جوتے صاف کر رہا ہے۔ وہ لیبیا کے سابق لیڈر کی تصویر پر اپنے پیر رگڑتا ہے۔ ایک تیسرا نسبتاً بوڑھاشخص، اپنا جوتا اتارتا ہے اور بار بار قذافی کی تصویر پر مارتا ہے۔

بینک کی عمارت کے اندر، بینک کے افسر حسین خراکا اپنے عملے کے لوگوں سے ملتے ہیں۔ دس روز قبل جب انقلاب آیا اور طرابلس میں زندگی کا نظام درہم برہم ہو گیا، اس کے بعد آج بینک پہلی بار کھلا ہے۔

وہ لیبیا کے مستقبل کے بارے میں پُر امید ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اب لیبیا میں بنک بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کریں گے، اور یورپ اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہو جائیں گے۔

جب ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جاتا ہے جو خود کو افریقی بادشاہوں کا بادشاہ کہتا تھا تو خراکا کہتے ہیں ’’وہ اپنے کسی غار میں چھپا بیٹھا ہے۔ وہ بزدل ہے۔ وہ خود اپنے لوگوں تک کا سامنا نہیں کر سکتا۔‘‘

ہوٹل واپس جاتے ہوئے، ٹیکسی ڈرائیور سی ڈی پر لیبیا کا نیا قومی ترانہ بجا رہا ہے۔ سڑکوں پر ٹیکسیاں دوڑ رہی ہیں۔ بینک کھلے ہیں۔ دوکانیں کھلی ہیں۔ قذافی کے گھرانے کے کچھ لوگ الجزائر پہنچ چکے ہیں۔ پورے طرابلس میں، یہ بات ظاہر ہے کہ قذافی کی شخصیت کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG