رسائی کے لنکس

قذافی کے گردگھیرا تنگ، اقتدار چھوڑنے کا امریکی مطالبہ


قذافی کے گردگھیرا تنگ، اقتدار چھوڑنے کا امریکی مطالبہ

قذافی کے گردگھیرا تنگ، اقتدار چھوڑنے کا امریکی مطالبہ

روس بھی لیبیا کے حکمرانوں پر دباؤ ڈالنے والے ملکوں میں شامل ہوگیا ہے اور روسی وزیر خارجہ نے لیبیا کے وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔ یورپی یونین نے بھی لیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبے کے بعد اتوار کو لیبیا کے صدر معمر قذافی کے گرد گھیر ا مزید تنگ ہو گیا ہے جبکہ یہ خدشات بھی زور پکڑتے جارہے ہیں کہ چار دہائیوں پر محیط اُن کی ڈگمگاتی حکمرانی ملک کو خانہ جنگی کی طر ف دھکیل رہی ہے۔

واشنگٹن میں ایک بیان میں صدر اوباما نے پہلی مرتبہ براہ راست مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قذافی کو اقتدار چھوڑدینا چاہیے کیونکہ وہ حکمرانی کرنے کے قانونی حق کو کھو چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر نے یہ بیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں جرمن چانسلر انجیلا مارکیل کواعتماد میں لینے کے بعد دیا ۔

قذافی کے گردگھیرا تنگ، اقتدار چھوڑنے کا امریکی مطالبہ

قذافی کے گردگھیرا تنگ، اقتدار چھوڑنے کا امریکی مطالبہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے معمر قذافی کی انتظامیہ کے عہدے داروں پر بین الاقومی سفر کرنے پر پابندی اور اُن کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لیبیا کے طاقتور رہنما کے خلاف ممکنہ انسانیت سوز جرائم کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عالمی تنظیم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتفاق رائے سے ایسا فیصلہ کیا گیا ہے۔

معمر قذافی کے وفاداروں اور حکومت کے مخالفین کے درمیان تصادم میں شدت کے خوف نے غیر ممالک کو لیبیا سے اپنے لاکھوں شہریوں کا انخلاء اور سفارت خانوں کو بند کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے فائرنگ، لوٹ مار اور خوراک کی قلت کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ قذافی کے وفاداروں کی مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیبیا کے سابق وزیر انصاف نے کہا ہے کہ وہ معمر قذافی کی گرتی ہوئی حکومت کی جگہ ایک عبوری حکومت بنا رہے ہیں۔ عینی شاہدین اور اخباری اطلاعات کے مطابق قذافی کا اقتدار اس وقت دارالحکومت کے اردگرد کچھ مغربی حصوں اور جنوب میں پرانے مضبوط ٹھکانوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

سابق وزیر انصاف مصطفی عبدل جلیل نے حکومت کے مخالفین کے زیر قبضہ مشرقی شہر البیدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبوری حکومت فوجی کمانڈروں کو بھی شامل کیا جائے گا جو تین ماہ کی مدت میں انتخابات کی راہ ہموار کرے گی۔”ہماری قومی حکومت فوجی اور سیاسی شخصیات پر مشتمل ہوگی جو تین ماہ تک اقتدار میں ر ہے گی جس کے بعد ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے لوگ اپنی مرضی کی حکومت کو منتخب کرسکیں گے۔“

تاہم یہ واضح نہیں کہ اپوزیشن کے زیر کنٹرول دوسرے شہروں کی انتظامیہ سابق وزیر انصاف کی تجویز سے متفق ہے۔ مصطفی عبدل جلیل مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے تشدد پر احتجاجاََ پیر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

دارالحکومت طرابلس کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر میں بینک کھلے ہیں لیکن روٹی اور پیٹرول کی قلت ہے کیونکہ حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہونے کے بعد سے بنیادی خوراک کی تقسیم کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے کہا ہے کہ تقریباََ ایک لاکھ افراد پچھلے ایک ہفتے کے دوران لیبیا سے نکل کر جاچکے ہیں جن میں اکثریت غیر ملکیوں کی ہے۔

روس بھی لیبیا کے حکمرانوں پر دباؤ ڈالنے والے ملکوں میں شامل ہوگیا ہے اور روسی وزیر خارجہ نے لیبیا کے وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔
یورپی یونین نے بھی لیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے کہا ہے کہ لیبیا کو درپیش بحران نے ملک میں ”خانہ جنگی کے دروازے کھول دیے ہیں“۔

XS
SM
MD
LG