رسائی کے لنکس

لیبیا کے نائب وزیر خارجہ اہل خانہ سمیت ملک سے فرار


لیبیا کے نائب وزیر خارجہ اہل خانہ سمیت ملک سے فرار

لیبیا کے نائب وزیر خارجہ اہل خانہ سمیت ملک سے فرار

مصری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لیبیا کے وزیر داخلہ نصر المبروک عبدلہ اور ان کے نو اہل خانہ پیر کی صبح تیونس کے ایک ساحلی تفریحی مقام دجربا سے نجی طیارے پر قاہرہ پہنچے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ سیاحتی ویزے پر مصر آئے ہیں۔

لیبیا کی وزارت داخلہ کے ایک سینیر عہدے دار اپنے خاندان کے نو ارکان کے ساتھ فضائی ذریعے سے مصری دار الحکومت چلے گئے ہیں جو بظاہر لیڈر معمر قذافی کی حکومت سے ایک اور انحراف دکھائی دیتا ہے ۔

نصر الببروک عبد اللہ اور انے رشتے دار پیر کی صبح ایک نجی جیٹ طیارے سے ٹیونس کے تفریحی جزیرے جربہ سے قاہرہ پہنچے۔ اگرچہ مصری عہدے داروں نے ابتدا میں عبد اللہ کو لیبیا کے وزیر داخلہ کے طور پر شناخت کیا تھا لیکن بعد میں خبر رساں اداروں نے لیبیا اور مصر کے عہدے داروں کے حوالے سے انہیں نائب وزیر داخلہ بتایا ۔

عبدداللہ مصر میں ایک سیاحتی ویزے کے ساتھ داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے قاہرہ میں مسٹر قذافی کے سفارت خانے کے کسی نمائندے سے ملاقات نہیں کی ہے ۔

مغربی خبر رساں اداروں نے جربہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسٹر قذافی کے مشیروں نے اتوار کے روز ایک مقامی ہوٹل میں لیبیا کے باغیوں سے ملاقات کی ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون کے لیبیا کے لیے سفیر عبدل عبداللہ الخطیب دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے پیر کےروز ٹیونس پہنچے

پیر کےر وز لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک آڈیو پیغام میں مسٹر قذافی نے اپنے لوگوں پر زور دیا کہ وہ لیبیا کو باغیوں سے آزاد کرانے کے لیے لڑیں ۔

زاویہ، دارالحکومت طرابلس سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بڑی اہمیت کی حامل شاہرہ کے قریب واقع ہے۔ اس شہر پر باغیوں کے کنٹرول سے طرابلس جانے والے ترسیلی راستے بند ہو جائیں گے۔

قذافی نواز فوج کے ساتھ سخت لڑائی کے باوجود، باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ساحلی شہر کے مغربی علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔

باغیوں نے شہر پر قذافی دور سے پہلے کے جھنڈے لہرائے اور خوشی سے ہوائی فائرنگ کرتے رہے۔ تاہم سرکاری ترجمان موسی ابراہیم کا کہنا تھا کہ شہر حکومت کے قبضے میں ہے۔ موسی ابراہیم نے کہا کہ حکومت کی حامی افواج نے باغیوں ایک چھوٹے سے گروپ کو روکے رکھا ہے اور اب انہیں مار بھگانے کے عمل سے گزر رہی ہیں۔

زاوِیہ کبھی باغیوں اور کبھی حکومت کے قبضے میں رہا ہے۔ جب فروری میں حکومت مخالف تحریک کا آگاز ہوا تو زاویہ ان پہلے شہروں میں سے تھا جس نے مسٹر قذافی کے اعلان بغاوت بلند کیا۔

XS
SM
MD
LG